ان تاریخوں میں کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔
ابتلائوں کا مقصد
خدا کے بندوں پر ابتلاء کے آنے کا ذکر تھا۔ فرمایا :
ابتلائوں کا آنا ضروری ہے۔ بعض فتوحات کا مدار ابتلائوں پر ہوتا ہے۔ کسی کی گریہ وزاری بعض دفعہ راہ کھول دیتی ہے۔ مثنوی میں ایک قضہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے پاس ایک دفعہ کھانے کو نہ تھا۔ وہ بزرگ اور اس کے ساتھ سب ھوکے تھے۔ اتنے مین ایک لڑکا حلہ بیچتا ہوا وہان سے آگذرا۔ اس بزرگ نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اس سے حلوہ ثھیں لو۔ چنانچہ آدمیوں نے ایسا کیا اور وہ حلوہ بزرگ نے اور اس کے ساتھیوں نے کھالیا۔ وہ لڑکا بہت رویا۔ اور چلایا۔ آدمیوں نے سوال کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ بچہ کا حلوہ چھین لیا۔ فرمایا کہ یہی اس بچہ کی پونجی تھی۔ وہ بہت درد کے ساتھ رویا ہے اور اس کا رونا موجب کشائش اور فتوح کا ہوا ہے جو ہماری دعائیں نہیں ہوسکتی تھیں ؛ چنانچہ اس بچہ کو اس کے حق سے بہت زیادہ دے کر راضی کیا گیا۔
اسی طرح بعض ابتلاء صرف اس واسطے آتے ہیں کہ انسان اس تربہ کو جلد حاصل کرلے جو اُس کے واسطے مقدر ہے۔
ذکر تھا کہ ۱۴؍اپریل گذر گئی ہے جس کے واسطے انگریز نے پیشگوئی زلزلہ کی کی تھی۔ اب لوگوں کو تشفی ہو گئی ۔ فرمایا :
لوگ منخم پرست ہیں۔ خدا پرست نہیں ہیں
سبحان اﷲ کے معنی
ایک شخص نے اپنا خواب سنایا کہ میں سبحان اﷲ پڑھتا ہوں۔ فرمایا :
سبحان اﷲ کے یہ معنے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ خلاف وعدہ اور کذب اور دیگر تمام منقصتوں سے پاک ہے وہ اپنے وعدوں کو سچا کرتا اور پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے۔؎ٰ