اسی طرح ہماری کتب کے مطابق بھی بعثت مسیح کا یہی زمانہ ہے۔حج الکرامہ والے نے کل اہل کشوف اسی طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کے لیے چودھویں صدی مقرر ہے۔شاہ ولی اﷲ صاحب نے بھی اسی زمانہ کے لیے اُسے چراغ الدین کہا ہے۔غرضیکہ ہر ایک بزرگ نے جو زمانہ مقرر کیا ہے وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں گیا؛ اگر چہ ان میں کچھ اختلاف ہے۔چودھویں صدی میں لطیف اشارہ اس طرف تھا کہ دین اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح اس زمانہ میں چمک اٹھے گا۔جس طرح چاند کا کمال چودھویں رات کو ہوتا ہے۔اسی طرح اسلام کا کامل کل دنیا مٰں ثودھویں صدی میں ظاہر ہوگا۔تیرھویں صدی کی تایکی ان لوگوں میں صرب المثل ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس صدی کے علماء س بھیڑیوں نے صدی کی تاریکی ان لوگوں میں ضرب المثل ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس صدی کے علماء سے بھیڑیوں نے بھی نجات مانگی تھی۔یہ لوگ چودھویں صدی کے منتظر تھے،لیکن جب صدی آگئی تو اپنی بد بختی کے باعث انکار کر گئے۔اسی طرح قرآن میں ذکر ہے۔
ولما جاء ھم کتاب من عند اﷲ مصدق لما معہم وکانو ا من قبل یستفتحون علی الذین کفرو ا فلما جاء ھم ما عر فو اکفرو ابہ (البقرہ : ۹۰)
اہل کتاب منتظر تھے کہ پیغمبر کے آنے پر وہ اس کے ساتھ مل کر کفار سے جنگ کرین گے لیکن جب پیغمبر آیا تو انکار پر آمادہ ہو گئے۔
عقل کے نزدیک بھی زمانہ مسیح کا یہی معلومہوتا ہے۔اسلام اس قدر کمزور ہو گیا ہے کہ ایک وقت ایک شخص کے مرتد ہو جانے پر اس میں شور پڑ جاتا تھا۔لیکن اب لاکھوں مرتد ہو گئے۔رات دن مخالفت اسلام میں کتب تصنیف ہو رہی ہیں۔اسلام کی بیخ کنی کے واسطے سرح طرح کی تجاویز ہو رہی ہیں۔عقل پسند نہیں کرتی کہ جس خدا نے
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰)
کا وعدہ یدا ہے وہ ا سوقت اسلام کی حفاظت نہ کرے اور خاموش رہے۔یہ زمانہ کس قسم کی مصیبت کا اسلام پر ہے کہ شرفا کی اولاد دشمن الام ہو کر گر جائوں میں ثلے گئے اور کھلے طور پر رسول اکرم ﷺ کی توہین ہو رہی ہے۔ہر ایک قسم کی گالی اور سب و شتم میں ان کو یاد کیا جاتا ہے۔ان تمام امور کو بہ ہیت مجموعی اگر دیکھا جائے تو عقل کہتی ہے کہ یہی وقت خد اتعالیٰ کی تائید کا ہے اور میں تم کو سچ کاہتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا تو اسلام برباد ہو چکا تھا۔سو خد اتعالیٰ کے وجود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ عین ضرورت کے وقت خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور عین مصیبت کے وقت اسلام کو سنبھالا۔تائیدات سماوی اگر دیکھی جاویں تو یاہں بھی ایک بڑا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظہار کئے ۔اگر میں ان تمام نشانوں کو جمع کروں جو ہر روز میں اور میرے ساتھ رہنے والے دیکھتے ہیں تو ان کی تعداد لاکھ کے قریب ہوجاتی ہے۔قطع نظر اس کے صرف براہین احمدیہ کے بعض الہامات کو دیکھا جاوے۔چوبیس برس