نے جو خبر دی ہے اس کے متعلق کچھ اور معلوم ہو جاوے کہ وہ قریب ہے یا دور۔ اگر معلو م ہوا کہ دور ہے تو پھرایک ماہ کے بعد واپس چلے جاویں گے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ ایسے وکت آئے گا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوگی بلکہ لوگ ہماری تکذیب کر چکے ہوں گے کہ وہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ قرآن شریف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے
فلما نسو اما ذکرو ابہ (الانعام : ۴۵)
یہ عادت اﷲ ہے کہ ایسے وقت عذاب آتا ہے جب لوگ اُسے بالکل بھول جاتے ہین۔ ایسا ہی ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ چھپ کر آئوں گا۔ گویا ہر شخص کا دل یقین کر لے گا کہ ہم نے جھوٹ بولا ہے بغتۃ کا یہی منشا ہے۔
طبقات الارض والے اور جو تشی سب مل ملا کر فیصلہ کر دیں کہ کوئی زلزلہ نہیںآئے گا۔ پھر خدا تعالیٰ کی وحی کی اور بھی عظمت ظاہر ہوگی۔ حقیقت میں اگر وہ بھی یہی رائے دیتے کہ زلزلہ آئے ا تو ہامری بات مشتبہ ہو جاتی اور کمزور سمجھی جاتی۔ لیکن اب تو ان لوگوں نے اقرار کر لای یہ کہ زلزلہ نہیں آئے گا۔
فرمایا :
اگر اب خد اتعالیٰ چپ رہے تو پھر دہریہ پن کے سوا کوئی اور مہب نہ ہوگا۔ اگر اس وقت اس کی ثہرہ نمائی کی ضرورت نہیں ہے تو پھر کب ہوگی۔ جیسے آنحصرت ﷺ نے بدر میں دعا کی تھی کہ اے اﷲ اگر تونے آج اس گروہ کو ہلاک کر دیا تو تیری کبھی عبادت نہ ہوگی۔ یہی دعا آج ہمارے دل سے بھی نکلتی ہے۔ پس یقینا یاد رکھو کہ اب اگر خد اتعالیٰ دستگیری نہ کرے تو سب ہلاک ہو جایں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد اگر نہ ہوتو قطع یقین ہو جاتا ہے ۔ بچہ کو اگر دودھ نہ ملے تو وہ کب تک جئے گا۔ آخر سسک کر مر جائے گا۔
اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی طرف سے انقطاعِ امداد ہو تو انسان چونکہ کمزور اور ضعیف ے جیسا کہ فرمایا۔
خلق الانسان ضعیفا (نساء : ۲۹)
پس وہ بھی آخر روحانی طور پر مر جائے گا۔ اس کی طرف اشارہ کر کے براہین احمدیہ میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیرا پڑ جاتا۔ اصل یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور اس کے تازہ بتازہ نشان ظہار ہوتے ین تو ایمانی حالت درست اور مضبوط رہتی ہے ورنہ شیطانی علوم نے کچھ ایسا دخل کر لیا ہے کہ وہ دلوں سے قہری سیاست کے بغیر جو آسمان سے اُترتی ہے۔ نکل ہی نہیں سکتے ان کے لیے ایسی قہری ضرب چاہیے کہ شیطان چیخ کر نکل جاوے۔ اﷲ تعالیٰ رحیم ہے۔ پس وہ اپنے بندوں پر ان نشانوں کے ذریعہ فضل کر رہا ہے اور اُن کے ایمانوں کو طاقت دے رہا ہے۔