پر ایمان رکھنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔کلیا آخرت کے لیے وہ اس قدر محنت اور جان خراشی کرتے ہیں جس قدر کہ وہ دنیا کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اس طرف کا معاملہ بھی کبھی پڑے گا۔
نوجوان نے عرض کی کہ میں نے عربی بھی ساتھ ساتھ پڑھی ہے۔ حضرت نے فرمایا :
ہم تو صرف اتنے پر بھی خوش نہیں ہوسکتے۔ کیا ہزاروں مولوی ایسے نہیں ہیں جو بڑے بڑے علومِ عربیہ کی تحصیل کر چکے ہیں۔مگر پھر بھی وہ اس سلسلہ حقہ کی مخالفت کرتے ہین ار وہ علوم اُن کے واسطے اور بھی زیادہ حجاب کا موجب ہو رہے ہیں۔ ہزاروں مولوی ہیں جو بجز گالیاں دینے کے اور کچھ کام نہیں رکھتے ۔ بیشک معارف قرآنی کا ذخیرہ سب عربی مین ہے تاہم جب ایک مدت گذرجاتی ہے اور خدا کے ایک رسول کو بہت زمانہ گذر جات اہے تب لوگوں کے ہاتھ مین صرف الفاظ ہی رہ جاتے ہیں جن کے معانی اور معارف کسی پر نہیں کھل سکتے جبتک کہ اﷲ تعالیٰ ان کے واسطے کوئی چابی پیدا نہ کردے۔ جب خدا کی طر ف سے راہ کھلتا ہے تب کوئی منور قلب والا زندہ دل پید اکیا جاتا ہے۔ وہ صاحب حال ہوت اہے اس واسطے اسکی تفسیر درست ہوتی ہے۔ زندہ دل کے سوا کچھ نہیں۔ یہ باتیں سیدھی ہیں مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔
(نوخوان:- جہالت ہے۔)
خدا کہت اہے کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو گئے۔ حدیث نبویؐ سے بھی یہی ثابت ہیکہ فوت ہو گئے رسول اﷲ ﷺ نے اس کو مُردوں میں دیکھا۔ پھر بھی ہمارے مخالف مولوی انکار کئے چلے جاتے ہیں۔
(نوجوان:- جہالت اور بدقسمتی)
اﷲ تعالیٰ آپ کی اور ہماری ملاقات سے فائدہ دے۔؎ٰ
۶؍مئی ۱۹۰۵ء
قبل ظہر
اﷲ تعالیٰ سے چہرہ نمائی کے لیے دعا
فرمایا کہ :
ہم تو زلزلہ کے وقت آئے تھے کہ باغ میںثل کر دعا کرین۔ اب محض اس وجہ سے ٹھہرے ہوئے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ