واسطے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُسے دین میں فہم عطا کرتا ہے۔ آجکل لوگوں کو انگریزی تعلیم نے فریفتہ کر رکھا ہے اور اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ان کو دوسرے گھر کا ایمان ہی نہیں اور اگر کسی کو ہے تو ایس اکہ ہونا نہ ہونا برابر ہے مگر اس وقت اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اپنا چہرہ دکھلاوے۔مخلوق کی قسادت قلبی انتہاء تک پہنچ گئی ہے اور لوگوں نے نرمی سے فائدہ نہیں اُٹھا یا اس واسطے وہا ب قہری نشان بھی دکھانا چاہتا ہے۔ سعید ہیں وہ لوگ جو کبل ایسے نشانات کے واقع ہو جانے کے یامان لاویں ورنہ فرعون کی طرح آفت میں پڑ کر ایمان لانا مفید نہیں ہوتا۔ جو لوگ بعد میں ایمان لاتے ہیں وہ برگزیدہ پاک جماعت میں داخل نہین ہوسکتے۔ آپ کا ہمارے پاس آنا دو نتائج سے خالی نہیں۔ یا تو قبل از وقت آپ پر اثر پڑے یا بعد میں ئپ کو حسرت ہو۔ (نوجوان۔ خدا کرے دوسری بات نہ ہو) جس سلطنت کے نیچے لوگ رہتے ہیں اس کا اثر مخلوق پر ضرور ہی ہوتا ہے۔ لوگ گر چہ بظاہر ایک مذہب رکھتے ہیں تا ہم ان کا سارا رُخ دنیا کی طرف ہے اور خدا کی طاقتوں پر ایمان نہیں ہے، لیکن اب وقت آگیا ہیکہ اﷲ تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ کے مطابق پھر جلوہ دکھائے۔ یہ زمانہ نوح کے زمانہ سے بہت ملتا ہے۔ اس وکت بھی لوگ اکثر دہریہ تھے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ کنت کنزا مخفیا فاجلبت ان اعرف میں ایک مخفی خزانہ تا۔ پھرمیں نے چاہا کہ پہچانا جائوں صرف انگریری زبان میں کوئی کتنی ہی ترقی کرلے اس کا نتیجہ بجز دنیا کے اور کچھ نہیں ہے۔یوں دیکھ لینا چاہیے کہ جو بچے ایسے ہیں کہ انکے ماں باپ ہردو اہگریز ہیں ان کا انگریزی میں کمال ان کو دین کے لیے کیا فائدہ دے سکت اہے کیونکہ یہ زبان وہ نہیں جس کے ساتھ فخر کای جاسکے۔ معاش بیشک انسان پید اکرسکت اہے۔ مگر معاش تو ایک مزدور بھی ویسی ہی پیدا کرلیتا ہے بلکہ وہ مزدور اچھا ہے کیونکہ اس کے ساتھ وساوس نہیں ہیں،۔ ہمارا منشاء یہ نہیں کہ انگریزی نہ پڑھو ۔ خود ہماری جماعت میں بہت انگریزی خوان ہیں اور بی۔اے ‘ ایم۔اے تک تعلیم یافتہ ہیں اور معزز سرکاری عہدوں پر ملازم ہیں لیکن ہمارا منشا یہ ہے کہ اس سے نیک فائدہ اٹھائو اور اس کے برے فلسفہ سے بچو جو انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے۔ ہر شئے میں ایک اثر ہتا ہے۔ چونکہ انگریزی زبان مین بہت سی کتابین اس قسم کی ہیں جو دہریت یا دہریت کی طرف جھکے ہوئے خیالات اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس واسطے بغیر کسی زبردست رشد اور فضل الٰہی کے ہر ایک شخص اس سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے لیت اہے۔ آجکل دنای کے لیے حد سے زیادہ زور لگایا جاتا ہے مگر معاش کے لیے سب درواز سے کھلے ہیں۔ افراط کا نتیجہ اچھا نہیں ہتوا۔ دنای میں بہت لوگ ایسے ہیں کہ وہ خدا