نے خیال کیا کہ شاید ویسے ہی کچھ حرکت ہوئی ہے، مگر پھر زور سے ایک دھکا لگا تب یقین ہوا کہ زلزلہ ہے۔ اور میں گھر کے آدمیوں کو جگاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اُٹھو زلزلہ آیا۔ مبارک کو بھی اُٹھالو۔ اور یہ بھی رؤیا میں کہتا ہوں کہ جو تشی کس قدر جھوٹے ہیں۔ پنڈت نے تو اخبار میں چھپایا تھا کہ اب زلزلہ نہیں آئے گا۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ آج رات کی رؤیا کا ذکر تھا کہ سخت زلزلہ آیا اور گھر کے آدمیوں کو جگاتے ہیں ۔ فرمایا کہ : آسمان پر ضرور کچھ تیاری معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ظاہر پر یہ بات محمول ہواور ممکن ہے کہ اس سے مراد اور کوئی سخت آفت ہو۔ بعض دفعہ ویسے بھی زمینوں میں خسف ہو جاتا ہے۔ فرمایا : اس میں مبارک کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ یہ امر ہمارے واسطے خیروبرکت کا موجب ہوگا۔ گودوسروں کے واسطے اس مین مصائب اور شدائد ہوں۔ میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس واسطے ایک اور اشتہار لکھا جاوے۔ بار بار کے سمجھانے سے ممکن ہے کہ کوئی آدمی سمجھ جاوے۔ ذکر آیا کہ لدھیانہ میں ایک فحش گونے پھر گالیاں دینے پر کمر باندھی ہے۔ فرمایا کہ : اب ایسے لوگوں سے اعراض ہی اچھا ہے۔ ہم کیا جواب دے سکتے ہیں۔ خدا خود ہی اب تو جواب دینے لگ پڑا ہے۔ نزولِ آفات کا سبب ذکر ہوا کہایک شہر میں ایسا بگولہ آیا ہے کہ شہر کے ایک حصہ کو بالکل تباہ کر گیا ہے۔ اور دریائے بیاس کا پانی پہاڑ کے گرنے سے رک گیا ہے ارو خوف ہے کہ جب وہ یک دفعہ پھٹے گا تو بڑا سخت طوفان نازل ہوگا۔ فرمایا : ہر طرف سے آفات کا سامنا ہے۔ چاروں عناصر انسان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔کیونکہ اس نے خدا کی نافرمانی کی۔ فرمایا: صرف باتوں سے کام پورا نہیں ہوتا۔ سنت اﷲ ہمیشہ یہی ہے کہ نشانات دکھائے جاتے ہیں۔ الہامات کے الفاظ میں بی استعارات ہوتے ہیں۔ زلزلہ سے مراد کبھی زلزلہ ہوتا ہے، کبھی آفتِ شدید۔ آج رات میں اس خیال میں سویا تھا کہ زلزلہ کا خواب اور الہامات ہوئے۔