فرمایا:
ایمان والے مانتے ہیں پر دوسرے لوگ ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پیسہ اخبار بہت ہی شوخی کرتا ہے اور لوگوں کو خدا کے نشانوں سے غافل کرنا چاہتا ہے اور ان کو تھپک تھپک کر سلاتا ہے۔؎ٰ
صدقہ و خیرات اور توبہ سے بلائیں دور ہو جاتی ہیں
۳۰؍اپریل ۱۹۰۵ء
آتھم کے متعلق کسی نے سوال کیا۔ فرمایا :
صدقہ و خیرات سے بلا دور ہو جاتی ہے۔ اگر صدقہ سے عذاب میں تاخیر نہیں ہو جاتی تو پھر سارے پیغمبر نعوذ باﷲ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ یونسؑ اور اس کی قوم کا قصہ پڑھو۔ آتھم تو آخر مر ہی گیا تھا مگر یونس کی قوم تو توبہ کرنے سے بالکل بچ گئی۔ اگر وہ باوجود اس قدر گیہ وزاری اور خاموشی کے مرجاتا تو پھر اس میں اور لیکھرام میں کیا فرق ہوتا؟ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ شوخ میں اور غیر شوخ میں فرق کر کے دکھادے۔؎ٰ
یکم مئی ۱۹۰۵ء
سچا مسلمان
ضلع مظفر گڑھ کا ایک عیسائی آپ کے ہاتھ پر توبہ کرکے مسلمان ہوا۔ اس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :
گذشتہ زندگی اور مذہب اور قوم کے طرز و طریق کے مطابق انسان میں بعض خصلتیں اور خواہشیں راسخ ہو جاتی ہیں اور بہت سے نفسانی فریب اندر ہی اندر پوشیدہ ہوتے ہینل۔ سچا مسلمان وہ ہے کہ سب گندوں کی گٹٹھریاں اپنے سر سے پھینک کر اور اپنے آپ کو پاک صاف کرکے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اختیار کرے۔ کوئی غرص نفسانی درمیان نہ رکھے۔ رازق اﷲ تعالیٰ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ہندومسلمان ہوتے ہی کسی ملا سے ایک کاغذ لکھوالیتے ہیں اور ان کی ساری عمر بھیک مانگنے میں گذر جاتی ہے۔ ان کو معلوم بھی نہین ہوت اکہ اسلام کیا شئے ہے۔ مسلمان اس کوکہتے ہیں جو دنیا کے لوگوں سے منہ پھیر کر خدا کی طرف آجائے۔ مسلمان کو چاہیے کہ ایسا طریق اختیار کرے جس سے نفس کی ذلت نہ ہو۔ تھوڑے پر قناعت کرلے۔ اﷲ تعالیٰ کو راضی رکھے۔ راستی اور