دینا اور اپنے بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات خیرات کی طرح ہی ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی خیرات ہے اور یہ حق حق العباد کا ہے جو فرض ہے۔ جیسے دخا تعالیٰ نے صوم و صلوٰۃ اپنے لیے فرض کیا ہے اسی طرح اس کو بھی فرض ٹھہرایا ہے کہ حقوق العباد کی حفاظت ہو۔ پس ہمارا کبھی یہ مطلب نہیں ہے کہ احتیاط کرتے کرتے اخوت ہی کو چھوڑ دیا جاوے۔ ایک شخص مسلمان ہو اور پھر سلسلہ میں داخل ہو اور اس کو یوں چھوڑ دیا جاوے جیسا کتے کو، یہ بری غلطی ہے۔ جس زندگی میں اخوت اور ہمدردی ہی نہ ہو وہ کیا زندگی ہے۔
پس ایسے موقعہ پر یاد رکھو کہ اگر کوئی ایس اواقعہ ہو جاوے تو ہمدردی کے حقوق فوت نہ ہونے پاویں۔ ہاں مناسب احتیاط بھی کرو۔ مثلاً ایک شخص طاعن زدہ کا لباس پہن لے یا اس کاپس خوردہ کھالے تو اندیشہ یہ کہ وہ مبتلا ہو جاوے۔ لیکن ہمدردی یہ نہیں بتاتی کہت م ایسا کرو۔ احتیاط کی رعایت رکھ کر اس کی خبر گیری کرو اور پھر جو زیادہ ہم رکھتا ہو وہ غسل کرکے صاف کپڑے بدل لے۔ جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے۔
من قتل نفسا بغیر نفس او فساد (المائدہ : ۳۳)
یعنی جو شخص کسی نفس کو بلاوجہ قتل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنای کو قتل کرتا ہے۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیںکی۔زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔ حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو وہ لوگ بھی تو گذرے ہیں جو دین کے لیے شہید ہوئے ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات پر راضی ہے کہ وہ بیمار ہو اور کوئی اسے پانی تک نہ دینے جاوے۔ خوفناک دہ بات ہوتی ہے جو تجربہ سے صحیح ثابت ہو۔ بعض ملاں ایسے ہیں جنہوںنے صدہا طاعون سے مرے ہویء مردوں کو غسل دیا ہے ارو انہیں کچھ نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ وبائی ایام میں اتنا لحاظ کرے کہ ابتدائی حالت ہو تو وہان سے نکل جاوے لیکن زوروشور ہو تو مت بھاگے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کاہ تھا کہ تم ابوابِ متفرقہ سے داخل ہونا اس لحاظ سے کہ مبادا کوئی جاسوس سمجھ کر پکڑ نہ لے۔ احتیاط تو ہوئی لیکن قضاء وقدر کے معاملہ کو کوئی روک نہ سکا۔ وہ ابوابِ متفرکۃ سے داخل ہوئے لیکن پکڑے گئے۔ پس یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں۔ ایمان کو مضبوط کرو قطع حقوق معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچائو جو تجربہ میں مضر ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی۔ میں دوسرا پہلو نہ بیان کرتا لیکن مجھے چونکہ سب سے ہمدردی ہے اس لیے اسے بھی میں نے