کرے کہ میت کی ذلت ہو اور پھر اس کے ساتھ ساری جماعت کی ذلت ہو۔ آئندہ خوب یاد رکھو کہ ہرگز اس بات کو نہیں کرنا چاہیے۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے تمہیں بھائی بنا دیا ہے تو پھر نفرت اور بُعد کیوں ہے؟ اگر وہ بھی مرے گا تو اس کی بھی کوئی خبر نہ لے گا اور اس طرح پر اخوت کے حقوق تلف ہو جائیں گے۔
خدا تعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھے ہیں حقوق اﷲ اور حقوق العباد۔ جو شخص حقوق العباد کی پروا نہیں کرتا وہ آخر حقوق اﷲ کو بھی چھوڑ دیتا ہے کیونکہ حقوق العباد کا لحاظ رکھنا یہ بھی تو امرِ الٰہی ہے جو حقوق اﷲ کے نیچے ہے۔
یہ خوب یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ پر توکل بھی کوئی چیز ہے۔ یہ مت سمجھو کہ تم نری پرہیزوں سے بچ سکتے ہو ۔ جبتک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو اور انسان اپنے آپ کو کار آمد انسان نہ بنا لے اس وقت تک ال تعالیٰ اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ خواہ وہ ہزار بھاگتا پھرے۔ کیا وہ لوگ جو طاعونمیں مبتلا ہوتے ہیں وہ پرہیز نہیں کرتے؟ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں نواب صاحب کے قریب ہی ایک انگریز رہتا تھا وہ مبتلا ہو گیا۔ حالانکہ یہ لوگ تو بڑے پرہیز کرنے والے ہوتے ہیں۔ نرا پرہیز کچھ چیز نہیں جبتک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو۔ پس آئندہ کے لیے یاد رکھو کہ حقوق اخوت کو ہر گز نہ چھوڑو؛ ورنہ حقوق اﷲ بھی نہ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ طاعون کا سلسلہ جو مرکز پنجاب ہو گیا ہے کب تک جاری رہے لیکن مجھے یہی بتایا گیا ہے،
ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتیٰ یغیر و اما بانفسھم (الرعد : ۱۲)
اﷲ تعالیٰ کسی حالت میں قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جبتک لوگ دل٭ں کی تبدیلی نہ کریں گے۔ ان باتوں کو سنکر یوں تو ہر شخص جواب دینے کو تیار ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو جو سمجھ لے وہی سعید ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہوت اہے۔ سمجھا کچھ اور جاتا ہے اور پھر اپنی عقل اور عمل کے پیمانہ سے اسے پایا جاتاہے۔ یہ ٹھیک نہیں۔ ہر چیز جب اپین مقررہ وزن سے کم استعمال کی جاوے تو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو اس میں رکھا گیا ہے۔ مثلاً ایک دوائی جو تولہ کھانی چاہیے اگر تولہ کی بجائے ایک بوند استعمال کی جاوے تو اس سے کای فائدہ ہوگ ااور اگر روٹی کی بجائے کوئی ایک دانہ کھالے تو کیا وہ سیری کا باعث ہو سکے گا؟ اور پانی کے پیالے کی بجائے ایک قطرہ سیراب کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہی حال اعمال کا ہے۔ جب تک وہ اپنے پیمانہ پر نہ ہوں وہ اوپر ہیں جاتے ہیں۔ یہ سنت اﷲ ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ پس یہ بالکل خطا ہے کہ اسی ایک امر کو پلے باندھ لو کہ طاعون والے سے پرہیز کریں تو طاعون نہ ہوگا۔ پرہیز کرو جہانتک مناسب ہے لیکن اس پرہیز سے باہمی اخوت اور ہمدردی نہ اُٹھ جاوے اور اُس کے ساتھ ہی خد اتعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو۔ یاد رکھو کہ مردہ کی تجہیز و تکفین میں مدد