اچھی طرح میری باتوں پر غور نہیں کی اور وہ غلطی اور دھوکا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے فوت ہو جاوے تو اس قدر بے رحمی اور سرومہری سے پیش آتے ہیں کہ جنازہ اُٹھانے والا بھی نہیں ملتا۔ درحقیقت جیسا کہ قاضی امری حسین صاحب نے لکھاہے یہ مصیبت تو ماتم سے بھی بڑھ کر ہے۔ یاد رکھو۔ تم میں اس وقت دواخوتیں جمع ہو چکی ہیں۔ ایک تو اسلامی اخوت اور دوسری اس سلسلہ کی اخوت ہے۔ پھر ان دو اخوتوں کے ہوتے ہوئے گریز اور سردمہری ہو تو یہ سخت قابل اعتراض امر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسے مسافر اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ جو خارج از مذہب سمجھتے ہیں اور کافر کہتے ہیں اُن میں بھی اس قسم کی سرد مہری نہ ہوتی۔ لیکن یہ سرد مہری کیوں ہوتی ہے؟ دو باتوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ افراط اور تفریط کا۔اگر افراط ارو تفریط کو چھوڑ کر اعتدال سے کام لیا جاوے تو ایسی شکایت پید انہ ہو۔ جبکہ
تواصو ابالحق (العصر : ۴)
اور
وتواصو ابالمر حمۃ (البلد : ۱۸)
کا حکم ہے تو پھر ایسے مردوں سے گریز کیوں کیا جاوے؟ اگر کسی کے مکان کو آگ لگ جاوے اور وہ پکار فریاد کرے تو جیسے یہ گناہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ میں نہ جل جائوں اس مکان کو اور اس میں رہنے والوں کو جلنے دے اور جا کر آگ بجھانے میں مدد نہ دے ویسے ہی یہ بھی معصیت ہے کہ ایسی بے اختیاطی سے اس میں کود پڑے کہ خود جل جاوے۔ ایسے موقعہ پر احتیاط مناسب کے ساتھ ضروری ہے کہ آگ بجھانے میں اس کی مدد کرے۔
پس اس طریق پر یہاں بھی سلوک ہونا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ نے جابجا رحم کی تعلیم دی ہے۔ یہی اخوتِ اسلامی کا منشاء ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی ہیں۔ ایسی پصورت میں کہ تم میں اسلامی اخوت قائم ہو اور پھر اس سلسلہ میں ہونے کی وجہ سے دوسری اخوت بھی ساتھ ہو۔ یہ بڑی غلطی ہوگی کہ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہو اور قضاو قدر سے اُسے ماتم پیش آجاوے تو دوسرا تجہیز و تکفین میں بھی اس کا شریک نہ ہو۔ ہرگز ہرگز اﷲ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ جنگ میں شہید ہوتے یا مجروح ہو جاتے تو میں یقین نہیں رکھتا کہ صحابہؓ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہوں یا پیغمبر ؐﷺ اس بات پر راضی ہو جاتے کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے جاویں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسی وارداتوں کے وقت ہمدردی بھی ہو سکتی ہے اور احتیاط مناسب بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اول تو کتاب اﷲ سے یہ مسئلہ ملت اہی نہیںکہ کوئی مرض لازمی طو رپر دوسرے کو لگ بھی جاتی ہے۔ ہاں جس قدر تجارب سے معلوم ہوت اہے اُس کے لیے بھی نص قرآنی سے احتیاط مناسب کا پتہ لگتا ہے۔ جہاں ایسا مرکز وبا کا ہو کہ وہ شدت سے پھیلی ہوئی ہو۔ وہاں احتیاط کرے۔لیکن اس کے بھی یہ معنے نہیںکہ ہمدردی ہی چھوڑدے۔ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان ایک میت سے اس قدر بِعد اختیار