گئے۔اور نہ معلوم کب تک اس کی تباہی چلتی رہے گی‘ لیکن جس موعود کے زمانہ کی شناخت کا یہ نشان ہے اسے اب تک ان لوگوں نیچانا۔اسی طرح زمین و آسمان نے شہادت دی۔لیکن ان شہادتوں کو ردی سمجھا گیاخدا غیور ہے اور وہ اپنی غیرت دکھلائے گا۔ایک مجازی حاکم عدول حکمی پسند نہیں کرتا تو وہ احکم الحاکمین غیور خدا کب اس عدول حکمی کو بلا سزا چھوڑ یگا۔ نئی سواری کا نشان ایک اور نشان اس زمانہ کا وہ نئی سواری تھی جس نے اونتوں کو بیکار کر دینا تھا۔قرآن نے وا ذاالعشار عطلت (التکویر : ۵) (جب اُونٹیاں بے کار ہو جاویں گی) کہہ کر اس زمانہ کا پتہ بتلایا۔حدیث نے مسیح کے نشان میں یوں کہا لیتر کن القلاص فلا یسعی علیھا۔ پھر یہ نشان کیا پرا نہ ہوا؟ حتیٰ کہ اس سر زمین میں بھی جہاں آج تک اونٹنی کی سواری تھی اور بغیر اونٹنیوں کے گذارہ نہ تھا،وہاں بی اس سواری کا انتظام ہو گیا ہے اور چند سالوں میں اونٹوں کی سواری کا نام و نشان نہیں ملے گا۔اونٹنیاں بیکار ہو گئیں ۔مقرر کردہ نشان پورے ہو گئے، لیکن جس کا یہ نشان تھا وہ پہچانا نہ گیا! کیا یہ اُمور بھی میرے اختیار میں تھے۔کہ ایک طرف تو میں دعویٰ کروں اور دوسری طرف یہ نشان پورے ہوتے جاویں۔کیا آسمانی نظام پر بھی میرا دخل ہے جو کسوف اور خسوف موعود کو پیدا کر لیتا؟ یا میرے ہاتھ کوئی ایسے مواد ہیں جن سے زمین پر موعود طاعون پیدا ہو گئی؟ یا حج کا روکنا جو یہ بھی مسیح کا نشنا تھا کیا یہ بھی میرے اشارہ سے ہوا؟ اسی طرح بیسیوں نشان زمانۂ مسیح کے ساتھ وابستہ تھے وہ سب پورے ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے کونسی حجت کو ان پر پودا نہیں کیا، لیکن ان کا انکار ابھی اسی طرح ہے۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ میں دہریت پھیلی ہوئفیہ خفیہ سب دلوں پر اثر کر رہی ہے۔خشیتِ الٰہی دن بہ دن مفقود ہو رہی ہے۔کان رکھتے ہیں پر سن نہیں سکتے۔آنکھیں رکھتے ہیں پر نہیں دیکھتے۔دل رکھتے ہیں پر نہین سمجھتے۔یہی وجہ ہے کہ انکار ہے و الا معاملہ تو بہت ہی صاف تا۔میری کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس قدر اتمام حجت کی گئی۔اب ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔خدا تعالیٰ نے قوی دلائل سے اُن کا رگ و ریشہ کات دیا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتے۔ شناخت مامور کے تین طریق ایک مامور کی شناخت کے تین طریق ہیں۔نقل۔عقل۔تائیداتِ سماوی۔اب دیکھنا چاہیے۔کہ یہ تینوں امور اس سلسلہ کے مؤید ہیں۔دانیال اور دیگرنبیاء نے تو ا سکے آنے کا زمانہ مقرر کر دیا ہے۔حتیٰ کہ صدی او رسال بھی مقرر کر دیا ہے۔تمام عیسائیوں میں ایک قسم کی گھبراہٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ کتبِ سابقہ کے مطابق مسیح کی آمد کا وقت آچکا ہے۔او رمسیح ابھی تک آیا نہیں۔اس لیے بعض علماء اخیر مجبور ہو کر اس طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی سے مراد کلیسیا کی ترقی ہے جو ہو چکی ہے۔؎ٰ