دیکھتے ہو اور ہم قریب دیکھتے ہیں۔
بغتۃ آنیوالا عذاب
مرزا ظفر اﷲ خاں صاحب ای۔اے سی گورداسپور کے ایک رشتہ دار کا ایک خط بنام سید امری علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر تھا وہ پڑھا گیا۔ اس میں نہایت دردناک الفاظ میں زلزلہ سے گھر کے آدمیوں کی تباہی کا تذکرہ تھا اور لکھا تھا کہ میرے بیس رشتہ دار ایک دم میں فوت ہو گئے ہیں۔ جن میں عزیز بھائی اور پیاری بیوی بھی شامل تھی۔ حضرت نے فرمایا :
ابھی آگے آنیوالا اس سے بھی سخت نظر آتا ہے مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ابھی تک ہنسی ٹھٹھے سے باز نہیں آتے۔ خدا کا دن اچانیک آنے اوالا ہے۔
مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ چور کی طرح آئے گا۔
فرمایا کہ:
ٹھیک ہے مگر چور کا لفظ کچھ زیب نہیں دیتا۔ قرآن شریف میںبہت مناسب لفظ ہے کہ بغتۃ یعنی اچانک آئے گا پہلے کچھ خبر نہ ہوئی۔
فرمایا :
شاید اس میں کچھ دیر ہو جائے تا کہ لوگ پوری طرح شوخیان کر لیں اور اپنے واسطے عذاب کے سامان اچھی طرح جمع کر لیں پھر اچانک یہ آفت اُن پر پڑے گی۔؎ٰ
۲۸؍اپریل ۱۹۰۵ء
(بعد نماز جمعہ)
باہمی ہمندردی اور اخوت کی تلقین
اعلیٰ حضرت حتۃ اﷲ مسیح موعود ؑ نے مند رجہ ذیل تقریر باہم ہمدردی ارو حقوقِ اخوت پر فرمائی :
میں صرف اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری اس جماعت کو ایک قسم کا دھوکا لگا ہاو ہے۔ شاید