۲۴؍اپریل ۱۹۰۵ء
وساوس کا علاج
ایک شخص نے عرض کی کہ میرا دل آجکل ایسا ہو رہا ہے کہ نماز میں لذت اور رقت پیدا نہیں ہوتی اور نہایت سخت تکلیف میں رہتا ہوں۔ خواہ مخواہ شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر چہ ان کو بہت رد کرتا ہوں تاہم وساوس پیچھا نہیں چھوڑتے۔
فرمایا :
یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ انسان ایسے وساوس کا مغلوب نہیں ہوتا۔یہ بھی ثواب کی حالت ہے۔ نفس کی تین حالتیں ہیں۔ ایک تو نفس امارہ ہے۔ نفس امراہ والے کو تو خبر ہی نہیں کہ بدی کیا شئے ہے۔ دوسرا نفس لوالمہ ہے جو بدی کرتا ہے پر بدی پر ہمیشہ گھبراتا ہے اور شرمندہ ہوتاہے اور توبہ کرتا رہتا ہے۔ ایسا شخص نفس کا غلام نہیں ہے اور اس خالت میں ہونا ایک حدتک ضروری بھی ہے اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بڑے بڑے ثواب ہیں یہانتک کہ اﷲ تعالیٰ خود بخود نور اور سکینت نازل کرتا ہے۔ خد اکی رخ؎حمت کا وقت آت اہے اوریک ٹھنڈ پڑ جاتی ہے ارو وہ بات ہوا ہو جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ تھک نہ جاوے۔ سجدہ میں
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث
بہت پڑھا کرو۔لیکن یاد رکھو کہ جلد بازی خوفناک ہے۔ اسلام میں انسان کو بہادر بننبا چاہیے۔ برسوں کی محنت و مشقت کے بعدآخر شیطان کے حملے کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ بھاگ جاتا ہے۔ ۲؎
۲۵؍اپریل ۱۹۰۵ء
آئندہ آنیوالی آفات
اس الہام کا تذکرہ تھا کہ بونچال آیا اور شدید آیا۔ فرمایا کہ :
بار بار زلزلہ کے متعلق جو الہامات ہوتے ہین اور خوابیں آتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر کچھ ایسی تیاری ہو رہی ہے کہ یہ امر جلد ہونے والا ہے۔ بہت سی باتیں ہوتی ہیں کہ انسان ان کو دور سمجھتا ہے مگر خدا کے علم میں وہ بہت قریب ہوتی ہے۔
یرونہ بعیداونرہ قریبا (المعارج ۷،۸)
تم اسے دور