۱۵؍اپریل ۱۹۰۵ء؁ آفات کی خبر فرمایا: لوگ کچھ ہی کریں اور کچھ ہی لکھیں مگر جیسی آفت کی خبر خدا نے اب دی ہے۔ یہ جب ظاہر ہو گی تو بہر حال اُن کو ماننا ہی پرے گا۔ کسی جگہ سے دس ہزار کے مرنے کی اور کسی جگہ سے تین ہزار کے مرنے کی خبر آرہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی وحی نے پہلے سے ہی خبر دی تھی کہ یہ سب کچھ تیرے لیے ہے لک نری ایات اور ایسا ہی براہین احمدیہ میں درج ہیں۔ قوۃ الرحمٰن لعبید اﷲ الصمد اس جگہ ہمارا نام عبید اﷲ اس لحاظ سے رکھا گیا ہے کہ ہم مخالفوں کی دکھ دہی اور مصائب سے بہت ستائے گئے ہیں۔ کسی نے خبر سنائی کہ بھاکسو میں کئی سو مر گئے اور جو باکی ہیں وہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اور سبحان پور میں بڑی تباہی آئی لیکن احمدی جماعت کا آدمی وزیر الدین ہیڈ ماسٹر بچ گیا۔ فالحمد ﷲ۔ فرمایا : یہ نشان تو صرف ایک بیج بویا گیا ہے اور تخم ریزی ہے اور دوسرا نشان اس سے بڑھ کر ہوگا۔ کفار میں بھی سعید فطرت ہوتے ہین۔ آخر ہنود بھی اس طرف توجہ کریں گے۔ ۲؎ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۵ء؁ امام الصوٰۃ کے لیے ہدایت کسی شخص نے ذکر کای کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سوریتن پڑھتے ہیں۔ فرمایا : امام کو چاہیے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے ایک انگریزی اخبار کا مضمون حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ محققین حیران ہیں کہ ان پہاڑوں سے یہ امید نہ تھی۔ فرمایا :