عقلمندوں کو کس طرح خدا حیران کرتا ہے۔ ان ملکوں میں آتش فشانی کی کبھی امید نہ تھی بلکہ یہ پہاڑ امن کا سلسلہ سمجھا جاتا تھا۔؎ٰ
۱۷؍اپریل ۱۹۰۵ء
اس زمانہ کے مسلمانوں سے خطاب
فرمایا :
براہین احمدیہ میں ایک الہام یہ بھی درج ہے :
ام حسبتم ان اصحب الکھف والرقیم کانو امن ایا تنا عجبا
اس میں اس زمانہ کے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ تم اصحابِ کہف کے قصہ پر کای تعجب کرتے ہو وہ تو تین سو سال تک سوئے رہے تھے اور تم کو سوئے ہوئے تیرہ سو سال گذر گئے ہیں۔ اور اب بھی تم جاگنا نہیں چاہتے۔ اسی طرح غفلت میں سوئے ہوئے ہو اور کوئی جگانا چاہتا ہے تو اس کو بُرا کہتے ہو۔
دعا کا اثر مولوی عبد الکریم صاحب کی علالتِ طبع کا ذکر تھا۔ فرمایا :
میں بہت دعا کرتاہوں۔ دعا ایسی شئے ہے کہ جن امراض کو اطباء اور ڈاکٹر لا علاج کہہ دیتے ہیں۔ ان کا علاج بھی دعا کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔
پیشگوئیوں کا صحیح مفسر
فرمایا:
پیشگوئیوں کا صحیح مفسر خود زمانہ ہے۔ دیکھو اس زمانہ میں یاجوج ماجوج ، دجال، نزول مسیح وغیرہ کے متعلق تمام پیشگوئیاں صاف سمجھ میں آگئی ہیں۔