۱۱؍اپریل ۱۹۰۵ء
کا نگڑہ کی تباہی
وحی الٰہی عفت الدیار کا ذکر تھا۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ الدیار سے مراد کا نگڑہ ویلی ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ شرک کا بڑا مکان ان دنوں میں وہی ہے۔ دو بری دیویوں کے مند راس جگہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ہر دو کو تباہ کیا اور بڑے پرانے شرک کو دنیا سے مٹادیا۔ حضرت نے فرمایا :
لوگ کہا کرتے تھے کہ خد انے کس طرح پہاڑ کو بنی اسرائیل کے اوپر کر دیا تھا یہ قصہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ اب کا نگڑہ۔ دھرمسالہ مقامات کے لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہوگا کہ
رفعنا فوقکم الطور (البقرہ : ۶۴)
کس طرخ سے ہو سکت اہے۔ ذرا سے زلزلے میں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا پہاڑ اوپر آگرا۔ پھر خدا چاہے اس کو پیچھے ہٹا دے یا اوپر گرا دے۔ یہ نیچر یت زمانہ کے جہلاء کا جواب ہے جو خدا نے زللزہ کے ذریعہ سے دیا ہے امید ہے کہ اس قدر نظارے دیکھ کر بعض خوش قسمت لوگ سمجھ جائیں گے کہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے احاطۂ قدرت میں ہے اور وہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔
زلزلہ کا نشان
ایک اخبار والے کا ذکر آیا کہ وہ لکھتا ہے زلزے تو آیا ہی کرتے ہیں۔ اس میں مرزا صاحب کا کیا نشان ہوا۔ فرمایا :
یہ لوگ نا بینا ہیں۔ نشان تو اس بات میں ہے کہ عین موقعہ پر ایک شخص نے قبل از وقت پیشگوئی کی اور دکھایا کہ یہی وقت ہے۔ خیرسب اندھے نہیں ہیں۔ سمجھنے والے سمجھ لیں گے کہ یہ کس قسم کا نشان ہے۔ ہزاروں برسوں کے جو معبد اور بت چلے آتے تھے وہ ب سرنگوں ہو گئے ہیں۔ یہ نشان نہیں تو اور کیا ہے؟
فرمایا :
ان بتوں کا ٹوٹنا خدا تعالیٰ کی اس توحید کے قائم ہونے کے واسطے جس کے لیے ہم رات دن دعائیں کرتے ہیں۔ ایک تفائوںہے۔
فرمایا :
اس الہام سے بھی جو ہم کو ہوا تھا کہ
جاء الحق وزھق الباطل
ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بت ٹوٹنے