جو عرصہ ہوا کہ ہم پر نازل ہوئی تھی کہ :
قرب اجلک المقدر۔ ولا نبقی لک من المخزیات ذکرا
ان مخالفوں کی مخالف باتوں کا کوئی نشان اور ذکر باقی نہ رہے گا۔اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس جماعت کو اپنی قدرتوں پر ایمان دلاوے۔ یمین ویسار میں نشانات ہیں۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس جماعت کو حفاظت میں رکھے۔؎ٰ
۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء
ایک عارفانہ دعا کثرت زلازل اور تباہیوں کا ذکر تھا۔ فرمایا :
ہم تو یہ دعا کرتے ہیں خدا جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظہار ہو جائے کہ نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم ) برحق رسول تھے اور خدا کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے۔ خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں۔ پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آجائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہو جائے۔
جماعت کا مستقبل آج رات کے الہام انفرعون…الخ کا ذکر تھا۔ فرمایا :
فرعون اور اس کے ساتھی تو یہ یقین کرتے تھے کہ بنی اسرائیل ایک تباہ ہوجانے والی قوم ہے اور اس کو ہم جلد فنا کر دیں گے۔ پر خد انے فرمایا کہ وہ ایسا خیال کرنے میں خطا کار تھے۔ ایسے ہی اس جماعت کے متعلق مخالفین و معاندین کہتے ہیں کہ یہ جماعت تباہ ہو جائے گی، مگر خدا تعالیٰ کا منشا کچھ اور ہے۔
فحاشی عذاب کا موجب ہے
کا نگڑہ کے متعلق بہت تباہی کا ذکر تا۔ مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ اس جگہ فحش بہت تھا۔ فرمایا :
اسی واسطے وہاں عذاب بھی بہت ہوا ۲؎