مومن کبھی رؤیا دیکھتا ہے اور کبھی اس کی خاطر کسی اور کو دکھاتا ہے۔ ہم نے اس کی تعمیل میں چودہ بکرے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ سب جماعت کو کہدو کہ جس جس کو استطاعت ہے قربانی کردے۔
ایک پرانا الہام
فرمایا کہ : ہمیں اس وقت اپنا پرانا الہام یاد آیا ہے کہ :
وتجلی ربہ للجبل فجعلہ دکاوخر موسی صعقا
جو براہین احمدیہ میںدرج ہے اور تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ پر یعنی مشکلات کے پہاڑ پر اور کر دیا اس کو پاش پاش اور گر ا موسیٰ بیہوش ہو کر یعنی ایسی تجلی ہیبت ناک تھی کہ اس کی ہیبت کا اثر موسیٰ پر بھی پڑا۔
زلزلے کے پہلے دھکا کے وقت ہم دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے تھے۔ ایک ہیبت ناک صورت پیش نظر تھی جس کا ایک قوی اثر دل پر تھا۔ ایسا ار تھا کہ گویا ایک صعق کی قسم تھی۔
آج کے الاہم میں جو آئندہ زلزلہ کا خوف ہے معلوم نہیں کہ کب پورا ہو اور معلوم نہیں خکہ زلزلہ سے مراد کس قسم کا عذاب ہے۔
عفت الدیار محلھا ومقامھا
والا الہام کیسا پورا ہوا کہ شہر اور چھائو نیوں کے نشان مٹ گئے۔ نہ خانہ رہا اور نہ صاحب خانہ۔
آریوں کے اخبار ڈیلی ٹائمز اور آریہ پتر کا اور اہلحدیث نے جو مخالفانہ ریمارکس کئے ہیں۔
ان کا ذکر آیا ۔حضرت نے فرمایا کہ:
ان سب کو یہی جواب دے دو کہ ہم آسمانی فیصلہ کے منتظر ہیں۔ تمہارا جواب دینا پسند نہیں کرتے۔ تمہارا جو جی چاہے کہتے جائو۔
انبیاء کی تربیت آہستہ آہستہ ہوتی ہے فرمایا:
تربیت انبیاء کی اسی طرح آہستہ آہستہ ہوتی چلی آئی ہے ابتدا مین جب مخالف دکھ دیتے ہیں تو صبر کا حکم ہوتا ہے اور نبی صبر کرتا ہے یہانتک کہ دکھ حد سے بڑھ جاتاہے۔ تب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اب میں خود تیرے دشمنوں کا مقابلہ کروں گا۔ اب یقیناً جانو کہ وقت بہت قریب ہے اس وقت ہمیں وہ وحی الیہی یاد آتی ہے