۹؍اپریل ۱۹۰۵ء؁ سلسلہ کی مخالفت اور اﷲ تعالیٰ کی چہرہ نمائی پرچہ، اہلحدیث امرتسر کا ذکر ہوا جس نے بہت سے بیجا حملے خدا کے سلسلہ پر کیے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا : کم علم آدمی تو معذور ہوتا ہے معاف بھی کیا جاتا ہے مگر تعجب ہے ان لوگوں پر جو علم رکھتے ہیں اور پھر بھی تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔کسی کو کیا معلوم کہ اندر ہی اندر کیا تیاری ہو رہی ہے اور ابھی زمین پر کای ہونے والا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ ایسی تباہی لائے گا جس کی خبر وحی الٰہی میں ہے تو پھر توبہ اور رجوع بھی فائدہ نہ دے گا۔ مبارک ہیں وہ جو پہلے ایمان لائے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئے۔ ایسا ہی درجہ بدرجہ سب کا حصہ ہے۔ دیکھو کس قدر قیامت کا نمونہ ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور ناجائز باتیں کہتے ہیں۔ لیکن ہماری جماعت کو چاہے کہ ان کی باتوں کے سبب غمگین نہ ہوویں۔یہ لوگ جیسے اہلحدیث وغیرہ ہیں۔ یہ ہامرے سلسلہ کی رونق ہیں۔ اگر اس قسم کے شور مچانے والے نہ ہوں تو رونق کم ہو جاتی ہے، کیونکہ جس نے مان لیا یہ وہ تو اپنے آپ کو فروخت کر چکا ہے۔ اور مثل مردہ کے ہے۔ وہ کیا بولے گا۔ وہ تو زبان کھول ہی نہیں سکتا۔ اگر سارے ابوبکرؓ ہی بن جاتے تو پھر ایسی بڑی بڑی نصرتوں کی کیا ضرورت بڑتی۔ جو حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر ظاہر ہوئی تھیں۔ دیکھو سنت اﷲ یہی ہے کہ پہلے سخت گرمی پڑے پھر برسات ہو پس تم خوش ہو کہ ایسے آدمی دنای میں موجود ہیں جو اس نصرت اور فتح کو جو کروروں کوس دور ہوتی ہے ایک دو کوس کے قریب کھینچ لاتے ہین۔ اب ان معاملات کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لای ہے۔ آج کے الہامات پر غور کرو۔ اب بحث مباحثہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہماری طرف سے خدا تعالیٰ آپ جواب دینے لگا ہے تو خلاف ادب ہے کہ ہم دخل دیں اور سبقت کریں۔ جس کام کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے ۔ وہ اس کو ناقص نہ چھوڑے گا۔ کیونکہ اب اگر امن ہو جائے اور کوئی نشان نہ دکھایا جائے تو قریب ہے کہ ساری دنای دہریہ بن جائے اور کوئی نہ جانے کہ خدا ہے۔ لیکن خد ااب اپنا چہرہ دکھائے گا۔ میرے؎ٰلڑکے محمد منظور کارؤیا حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ فرمایا :-