پر تو پھر سعدی کا یہ قول صادق آتا ہے ؎ آنکس کہ بقرآں و خبر زد نہ دہد ایں است جوابش کہ جوابش نہ دہی آنیوالا مسیح امتی ہوگا رہا یہ کہ آنے والا کون ہے؟ اس کا فیصلہ بھی قرآن و حدیث نے کر دیا ہے۔سورہ نور نے صاف طور پر بیان کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے خلفاء اس امت میں سے ہوں گے۔بخاری اور مسلم کا بھی یہی مذہب ہے کہ آنیوالا مسیح اس امت میں سے ہوگا۔اب ایک طرف قرآن و حدیث بنی اسرائیل مسیح کی موت اور دوبارہ نہ آنے کو بیان کرتے ہیں۔دوسری طرف یہی قرآن و حدیث آنے والے مسیح کو اسی امت میں سے ٹھہراتے ہیں تو پھر اب انتظار کس بات کا ہے؟ نشانات اب علامات کو بھی دیکھ لیا جاوے۔صدی کے سر پر مجدد کا آنا سب نے تسلیم کیا ہے اور یہ بھی مانا ہے کہ مسیح بطور مجدد صدی کے سر پر آوے گا۔صدی میں سے بائیس سال گذر گئے اور اس وقت تک مجدد نظر نہ آیا۔آخر اس صدی کے سر پر جس مجدد نے آنا تھا وہ کہاں ہے؟ کسوف و خسوف کا نشان مہدی کا نشان کسوف و خسوف تھا جو رمضان میں ہونا تھا۔اس کسوف و خسوف پر بی آٹھ سال گذر گئے۔مہدی نہ آیا۔اگر یہ کہا اجوے کہ نشان تو گیا‘ لیکن صاحب نشان بعد میں آوے گا تو یہ عقیدہ بڑا فاسد ہے اور قسم قسم کے فسادات کی بناء ہے۔اگر ایک زمانہ کے بعد اکٹھے بیس انسان مہد دیت کے مدعی ہو جاویں تو پھر اُن میں کون فیصلا کریگے؟ ضرور ہے کہ صاحب نشان نشان کے ساتھ ہو۔یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر صدی کے سرے کو اور کسوف و خسوف کو یاد کیا کرتے اور روتے تھے‘ لیکن جب وہ وقت آیا تو یہی لوگ دشمن بن گئے۔حدیث کے مطابق تمام نشان واقعہ ہو گئے لیکن یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہیں آتے۔کسوف و خسوف کا عظیم الشان نشان ظاہر ہو گیا ‘ لیکن خدا تعالیٰ کے اس نشان کی قدر نہ کی گئی۔ طاعون کا نشان اسی طرح کل انبیاء کی کتب سابقہ ارو قرآں و حدیث میں ایک اور بلا کی طرھ اشارہ تھا جو کسوف و خسوف کے آسمانی نشان کے بعد آنے والی تھی اور وہ طاعون ہے۔جو وہ بھی مسیح کے زمانہ سے وابستہ تھی۔یہ ایک خطر ناک مصیبت ہے جس کی طرف ہر ایک اولوالعزم نبی نے بالتصریح یا بالا جمال اشارہ کیا ہے۔ طاعون آگئی۔لاکھوں انسان تباہ ہو