باغ کے مکان میں منتقل ہونا
قادیان کے گائوں سے بعض آدمیوں کے طاعون میں مبتلا ہونے اور بعض کے مرنے کا ذکر ہوا۔ حضرت نے فرمایا :
خدا جانے ہمارے باہر آجانے میں کیا کیا حکمتیں ہیں اگر قادیان میں سو آدمی روز طاعون سے مرنے لگتا تب بھی ہم نے قادیان سے نہیں نکلنا تھا مگر اس میں خدا کی کوئی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایسی نئی بات پید اہو گئی یعنی سخت زلزلہ کے سبب سہ منزلہ مکانات کے گرنے کا اندیشہ ہوت اہے اس واسطے بموجب پابندیٔ شریعت اپنے آپ کو خطرناک جگہ سے محفوظ کرنے کے واسطے ہم باہر آگئے اور زلزلہ کی کیفیت ایسی ہے کہ ابتک محسوس ہوتا ہے۔ خدا نے دل میں پختہ طور سے یہی بات ڈال دی کہ اب باہر جانا چاہیے۔ طاعون کے لحاظ سے باہر آنا تو گناہ تھا مگر زلزلہ کے سبب خد اتعالیٰ نے یہ بات دل میں ڈال دی اور اس سے ہم کو بہت فائدہ اور آرام ہوا۔ کیونکہ باغ میں عمدہ ہوا اور خوشبودار پھولوں کے سبب مضامین کے لکھنے اور فکر اور تدابیر کے واسطے عمدہ موقعہ ملتا ہے اور صحت میں بہت ترقی محسوس ہوتی ہے اور درختوں کی چھائوں کے نیچے دعا کے واسطے عمدہ خلوت گاہ مل جاتی ہے جس کے سبب ہم باغ کے مکان میں آ گئے۔
نشانات کی کثرت اور وسعت فرمایا :
اب تو اس قدر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ گویا خدا اپنے آپ کو برہنہ کر کے دکھانا چاہتا ہے۔
فرمایا :
پہلے انبیاء کے معجزات تو خاص زمینوں اور خاص شہروں تک عموماً محدود ہوتے تھے مگر اب تو خد اتعالیٰ ایسے نشان اس سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے جو دنیا بھر پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔؎ٰ
۸؍اپریل ۱۹۰۵ء
فرمایا: ’’جب دنیا مد نظر ہو تو تطہیر مشکل ہے‘‘۔ ۲؎