۵؍اپریل ۱۹۰۵ء
نصرۃ الحق کے ایام
سید امیر علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر کو مخاطب کرکے نہایت لطف و مہربانی کے ساتھ حضرت نے فرمایا کہ :
’’آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوتی‘‘
اُنہوں نے عرض کیا کہ حضور کے قدموں میں حاضیر نصیب ہو تو پھر تکلیف کس بات کی یہاں تو جو ہو سب راحت ہی راحت ہے۔ حضرت نے فرمایا :
ہاں رحمتِ الٰہی کے دن ہیں۔ گو دوسورں کے واسطے عذاب کے دن ہیں مگر ہمارے واسطے نصرۃ الحق کے ایام ہیں۔؎ٰ
۷؍اپریل ۱۹۰۵ء
قادیان دار الامان
مختلف مقامات سے نہایت سخت تباہی اور سینکڑوں آدمیوں کے دب جانے اور مرجانے اور ہازاروں مکانات کے گر جانے اور زمینوں کے دھنس جانے کا ذکر ہو رہا تھا۔ بالمقابل اس کے قادیان میں جو امن رہا اس کے متعلق حضرت نے فرمایا کہ :
اس میں وہ وحی الٰہی بھی پوری ہوئی جو مدت ہوئی اخباروں میں شائع ہوئی تھی کہ :
امن است درمقام محبت سرائے ما
ان تبائیوں اور شہروں کے دبنے سے وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جس کو گیارہ ماہ ہوئے کہ شائع ہونی تھی اور گورداسپور میں نازل ہوئی تھی کہ :
عفت الدیار محلھا ومقامھا
یعنی سرائیں بھی تباہ ہو گئیں اور اصلی مقامات بود و باش بھی مٹ گئے اور ان کے نشان بھی مٹ گئے۔