دنیا فنا ہو سکتی ہے۔ جب لوگوں کو بہت امن اور آسودگی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ خدا سے اعراض کرتے ہیں۔ یہانتک کہ خد اکا انکار کر دیتے ہیں۔ اس قسم کا امن ایک مباثت کا پھوڑا ہے۔ یہ قیامت لوگوں کے واسطے عذاب مگر ہمارے واسطے مفید ہے‘‘۔ پھر آپ نے سلطان احمد کو دیکھنے والا رؤیا بیان کیا جو الہامات کے ذیل میں درج کیا گیا ہے۔ اور میاں بشیر احمد اور شریف احمد کے خوابوں کا پھر ذکر کیا۔ اور براہین احمدیہ حصہ پنجم کے چھپنے کا ذکر کیا۔ جس کا نام نصرت الحق ہے اور فرمایا : ’’یہ قیامت ہمارے لیے نصرت الحق ہے۔ ہم صبح یہی مضمون لکھ رہے تھے اور اس الہام پر پہنچے تھے جو ب راہین احمدیہ میں رج تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نا کیا۔ لیکن خد ااسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کردے گا۔ ہم یہ الفاظ لکھ ہی رہے تھے اور اس کے پورا ہونے کے ثبوت آگے درج کرنے کو تھے کہ یک دفعہ زلزلہ ہوا۔ یہ ایک زور آور حملہ ہے اور پیشگوئی میں حملوں کا لفظ جمع ہے جو عربی میں تین پر اطلاق پاتا ہے۔ اس واسطے خوف ہے کہ طاعون اور زلزلہ کے سوائے خدا جانے تیسرا حملہ کونسا ہے جو ہماری سچائی کے ثبوت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمانا ہے اور ابھی خدا جانے کیا ہے باہر سے خبریں ئئیں گی تو معلوم ہوگ اکہ کس قدر تباہی ہونی ہے۔ ہم نے کل ہی کہا تھا کہ خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہیبت ناک نشان ہونے والا ہے۔ یہ ایک ہلاکت کا نشان ہے جماعت کے سب لوگوں کو چاہیے کہ اپنی حالتوں کو درست کریں۔ توبہ و استغفار کریں اور تمام شکوک و شبہات کو دور کرکے اور اپنے دلوں کو پاک و صاف کر کے دعائوں میں لگ جائیں اور ایسی دعا کریں کہ گویا مر ہی جائیں تا کہ خدا ان کو پانے غضب کی ہلاکت کی موت سے بچائے۔ بنی اسرائیل جب گناہ کرتے تھے تو حکم ہوت اتھا کہ اپنے تئیں قتل کرو۔ اب اس اُمت مرحومہ سے وہ حکم تو اُٹھایا گیا ہے مگر یہ اس کی بجائے ہے کہ دعا ایسی کرو کہ گویا اپنے آپ کو قتل ہی کر دو۔ یہ الہامات جو پہلے سے شائع ہو چکے ہیں کہ مکذبوں کو ایک نشان دکھا یا جائے گا۔اور یہ کہ ایک چونکا دینے والی خبر۔ یہ سب اب پورے ہو گئے ہیں اور دیکھنے والوں کے واسطے کافی سے زیادہ سامان ایمان لانے کے پیدا ہو چکے ہیں‘‘۔؎ٰ