تھیں ان میں سے ایک اینٹ بھی نہیں گری چونکہ ہر دس منٹ کے بعد بار بار زلزلہ کا حساس ہوتا تھا ارو تمام روز کچھ کچھ زلزلہ محسوس ہوتا رہا۔اس واسطے حضور اقدس نے برعایت اسباب مناسب سمجھا کہ سہ منزلہ مکان میں رہنے کی بجائے اپنے باغ والے مکان میں ایک دو روز کے واسطے رہائش اختیار کریں؛ اگر چہ اس موقعہ پر کچھ خوف ہم سب کو دیکھنا پڑا ہے تاہم دراصل اس پاک مسیح کے قدموں کے طفیل کوئی امر ہمارے واسطے ائدہ سے خالی نہیں۔ اول تو ۳؍اپریل کی رؤیا اس سے پوری ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھی تھی ۔؎ٰ اور کئی ایک کو سنائی تھی۔ دوم اشتہار الوصیت میں جو ایک عظیم الشان پیشگوئی حضرت امام نے ابھی چند روز ہوئے شائع کی تھی۔ کہ ایک شورِ قیامت برپا ہے اور موتا موتی لگی ہوئی ہے اور لوگ چیخ رہے ہیں۔ وہ پوری ہوئی۔ یہ اشتہار الوصیت اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۵ء؁ اور اخبار البدرؔمورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء؁ اور ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مارچ ۱۹۰۵ء؁ میں شائع ہو گیا تھا۔ اس زلزلہ کی خبر براہین احمدیہ میں بھی دی گئی تھی۔ غرض یہ ایک بڑا نشان ہے جو خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔ اسی زلزلہ کا ذکر تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ : ’’یہ ایک قیامت ہے جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ اب دیکھ لیں کہ کس طرح ایک ہی سیکنڈ میں ساری