۳؍اپریل ۱۹۰۵ء؁ محبین سے تعلق خاطر سید حامد شاہ صاحب سیالکوتی کے تقرر مستقل۔ بر عہدہ سپرنٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع کی خبر حضرت کی خدمت میں سنائی گئی۔ آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ : شاہ صاحب ایک درویش مزاج آدمی ہیں ارو خدا تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی علالتِ طبع کا ذکر تھا۔ حضرت نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ : میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی ہے جس کی حد نہیں۔۴؎ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء؁ ایک زور آور زلزلہ کا نشان صبح سوا چھ بجے یک دفعہ نہایت زور آور حملہ زلزلہ کا ہاو۔ تمام مکانات اور اسیاء ہلنے اور ڈورلنے لگ پڑیں۔ لوگ حیران اور سراسیمہ ہو کر گھبرانے لگے۔ ایسے وقت میں خد اکے مسیح کا حال دیکھنے کے لائق تھا، کیونکہ احادیث میں تو ہم پڑھاہی کرتے تھے کہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایسے آسمانی اور زمینی واقعات پر خشیت اﷲ کا بڑا اثر اپنے چہرے پر ظاہر فرماتے تھے۔ ذرا سے بادل کے نمودار ہونے پر آپ بے آرام سے ہو جاتے۔ کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر جاتے۔ غرض اس وقت بھی نبی اﷲ نے ہر کہ عارف تراست ترساں تر والے مقولہ کو عملی رنگ میں بالکل سچا کر کے دکھایا ۔ زلزلہ کے شروع ہوتے ہی آپ بمعہ اہل بیت اور بال بچہ کے اﷲ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرنے میں شروع ہو گئے اور اپنے رب کے آگے سر بسجود ہوئے۔ بہت دیر تک قیام۔ رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ کا کنبہ بمعہ خدام کے گرا رہا اور اﷲ تعالیٰ کی بے نیازی سے لرزاں و ترساں رہا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے تمام مکانات اور جانوں کو گرنے وار تلف ہونے سے محفوظ رکھا اور کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جیس اکہ دوسرے شہروں سے تباہی اور ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں۔بلکہ ایسے مکانات جن کے پردے صرف ایک ایک اینٹ کے تھے اور کچھ پھٹے ہوئے بھی تھے اور بعض اینٹیں اُکھڑی ہوئی یونہی پڑی