یکم اپریل ۱۹۰۵ء؁ (قبل ظہر) اعلیٰ حضرت حجۃ اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ظہر سے پیستر تھوڑی دیر مجلس فرمائی۔ فرمایا : عصر کے بعد میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے میں اس لیے شام کو آنہیں سکتا۔ اپنے مُحبیّن سے شفقت اور ہمدردی مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سلّمہ ربہٗ کو کثرتِ پیشاب کی دو تین دن سے پھر شکایت ہو گئی ہے اور آج اعلیٰ حضرت نے ان کا قارورہ منگواکر دیکھا تھا جو کثیر مقدار میں تھا۔اس کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب کو مخاطب کرکے جو کچھ فرمایا اس سے آپ کی کمال شفقت ارو ہمدردی کا ثبوت ملتاہے اس لیے میں خلاصۃً اسے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں ۔فرمایا : میں آپ کا پیشاب دیکھ کر بہت حیران ہو گیا۔ میں نے تو اس کے بعد دعا ہی شروع کر دی اور انشاء اﷲ بہت دعا کروں گا۔؎ٰ مجھے خود چونکہ کثرت پیشاب کی شکایت ہے میں جانتا ہوں کہ کس قدر تکلیف ہوتی دل گھٹتا ہے اور پنڈلیوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ بہت بے چینی اور گھبراہٹ ہو جاتی ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ ۲؎ کو ختم کر لینے کے بعد کچھ دنوں تک صرف دعا ہی میں لگا رہوں گا۔ میں نے جو گولی آپ کو بنا کر دی تھی وہ مفید ثابت ہوئی تھی۔ آپ اس کا استعمال کریں میں بھیجدوں گا اور ختم ہونے پر اور دوا تیار ہو سکتی ہے۔ آپ دودھ کثرت سے پئیں۔وہ اس مرض میں بہت مفید ہے اور میں انشاء اﷲ بہت دعا کروں گا۔ آپ کے پیشاب کو دیکھ کر مجھے تو حیرت ہی ہوئی کہ آپ کس طرح التزام کے ساتھ نمازوں میں آتے ہیں اور آپ کی آواز سے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کو شکایت ہے۔ اس پر حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور کی دعا ہی ہے جو اس ہٹ اور استقلال