نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز نا تمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اﷲ سمجھتے ہیں۔ اور میرے تمام کا روبار خواہ اُن کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں ۔ میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔ میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی میری طرف بھیجے۔ مجھے کسی کی پروا نہیں۔ جبکہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہت اہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے۔ جو مجھ پر اعتراض کرے۔ ایسا اعتراض آنحضرت ﷺ پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔ سو میں آپ کو دوبارہ کہتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہدیں کہ تم کو اس خد اکی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں شریک ہے کہ ایک حبہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لیے کبھی اپنی عمر تک ارسال نہ کریں۔ پھر دیکھیں کہ ہمارا کیا حرج ہوا؟ اب قسم کے بعد میرے پاس نہیں کہ اور لکھوں۔ خاکسار مرزا غلام احمد حل مشکلات کا طریق ایک شخص نے اپنی مشکلات کے لیے عرض کی فرمایا : استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور نمازوں میں یا حیی یا قیوم استغیث برحمتک یا ارحم الراحمین پڑھو۔ پھر اس نے عرض کی کہ استغفار کتنی مرتبہ پڑھوں ؟ فرمایا : کوئی تعداد نہیں۔کثرت سے پڑھو یہاںتک کہزوق پیدا ہو جائے اور استغفار کو منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ سمجھ کر پڑھو۔ خواہ اپنی زبان میں ہی ہو۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ اے اﷲ! مجھے گناہوں کے برے نتیجوں سے محفوظ رکھ اور آئندہ گناہوں سے بچا۔ زاں بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نے مولوی مشرف الدین احمد صاحب کے صاحبزادہ کے لیے دعا کے واسطے عرض کیا۔ فرمایا : اُن کا خط بھی آیا ہے۔ اُن کو لکھ دو کہ یاد دلاتے رہیں۔