جس خط کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ذکر کیا ۔ یہ خط الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۸ پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے تشریحی مضمون کے ساتھ شائع ہوا ہے جو یہ ہے :
’’مجی اخویم۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ۔ میں ایک مدت سے بیمارییوں میں رہا۔ اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے یہ ہے کہ میری نسبت…ؔ کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے۔ آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیاکریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھتے ہیں۔ اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں۔ میں آپ کو خدا تعالٰی کی قسم دیتاہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ… تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوںمیں یہ اعتراض پید اہوا ہے بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم… کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرم ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لیے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں۔ ایساہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالٰی کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح ، درست ہے یا غلط میں اسی طرخ کرتا ہوں۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت نہیں ۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیقں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جایں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کردے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے۔
ینصرک اﷲ من عندہ۔ ینصرک رجال نوحی الیہم من السماء
یعنی خد ا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں کے جن کے دلوں میںہم آپ وحی کریں گے اور لاہام کریں گے۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور کیا وجہ کہ اُتھیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور