وفات مسیح اور ہمارے مسائل ۔سو وہ بھی بالکل صاف ہیں۔مثلاً قرآن شریف کی یہ آیت فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (المائدہ : ۱۱۸) ا س میں ایک جواب اور ایک سوال ہے۔خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو ایسی تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ بار خدایا جب تک میں زندہ رہا اور اُن میں رہا میں نے تو اُن کو ایسی تعلیم نہیں دی؛ البتہ تو نے جب مجھ کو مار دیا تو پھر تو ہی ان کا نگران حال تھا۔مجھے کوئی علم نہیں کہ میرے پیچھے انہوں نے کیا کیا۔یہ کیسی موٹی بات ہے کہ خود مسیح اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر عیسائی بگڑے تو میری وفات کے بعد بگڑے۔جب تک میں اُن میں زندہ رہا تب تک وہ صحیح عقیدہ پر قائم تھے۔اب اگر عیسائی بگڑ گئے ہیں تو بالضرور مسیح مر چکا ہے۔اور اگر مسیح آج تک نہیں مرا تو عیسائی بھی نہیں بگڑے اور اگر عیسائی نہیں بگڑے تو بالضرور عقیدہ الوہیت مسیح بھی درست ہے۔پھر مسیح کا یہ کہہ دینا کہ مجھے تو اُن کے بگڑنے کا علم نہیں جیسے کہ اسی آیت سے پایا جاتا ہے۔کیا یہ جواب اُن کا جھوٹا نہیں ہوگا ۔اگر ان کا دوبارہ دنیا میں آنا درست ہے،کیونکہ سوال و جواب قیامت کو ہوگا۔اور اگر انہوں نے دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال رہنا ہے ارو عیسائیوں اور کفار کو قتل کرکے اسلام کو پھیلانا یہ تو بالضرور انہوں نے عیسائیوں کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ لیا ہے اور اس بگری ہوئی حالت کو دیکھ کر وہ دوبارہ اس دنیا سے تشریف لے جاویں گے تو پھر حضرت مسیح کا یہ جواب دینا خدا کے حضور میں دروغ بیانی ہے اس دنیا سے تشریف لے جاویں گے تو پھر حضرت مسیح کا یہ جواب دینا خدا کے حضور میں دروغ بیانی ہے ۔کیا وہ احکم الحاکمین نہ کہے گا کہ تو دوبارہ دنیا میں گیا اور تونے دیکھ لیا کہ تیری امت بگڑ چکی تھی۔ایک مجازی حاکم کے آگے غلط بیانی ‘ دروغ حلفی کے جرم کا خطرناک ارتکاب ہے۔چہ جائیکہ ایک عالم الغیب حاکم کی جناب میں ایسی دروغ بیانی کی جاوے تو گویا اس آیت نے بڑی صفأئی کے ساتھ ایک طرف مسیح کی وفات کو ثابت کر دیا اور دوسری طرف ان کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا بطلان کردیا۔اس کے مقابل جب ہم حدیثوں پر غور کرتے ہیں تو وہاں سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔حضرت رسالت مآبؐ نے فرمایا اور یہ متفق علیہ حدیث ہے کہ میں نے حضرت مسیح کو حضرت یحییٰ ؑکے ساتھ دیکھا۔حضرت یحییٰ کامر جانا اور ان کا اس جماعت میں داخل ہونا جن کی قبض روح ہو چکی ہے ثابت شدہ امر ہے۔اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسیح بلاقبض روح وانتقال کرنے کے ایک ایسے شخص کا جلیس ہو جو دنیا سے مر چکا ہے اب ایک طرھ قول خدا اور دوسری سرف رئویت رسول اکرم ؐ سے وفات مسیح ؑ اور ان کا دوبارہ دنیا میں واپس نہ آنا قطعی ثابت ہو گیا۔اب بھی یہ لوگ اگر عقیدہ حیات مسیح سے باز نہ آویں۔تو یہی سمجھا جاوے گا کہ سچی ہدایت اور سعادت صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اُ ن کے حال