پس آپ ہرگز دیر نہ کریں۔ بہت جلد اس امر کو لکھ بھیجیں۔ اور کشف قبور کا معاملہ تو بالکل بیہودہ امر ہے۔ جو شخص زندہ خد اسے کلام کرتا ہے اور اس کی تازہ بتازہ وحی اس پر آتی ہے اور اس کے ہزاروں نہیں لاکھوں ثبوت بھی موجود ہیں۔ اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ مردوں سے کالم کرے اور مردوں کی تلاش کرے اور اس امر کا ثبوت ہی کیا ہے کہ فلاں مردے سے کالم کیا ہے۔ یہان تو لاکھوں ثبوت موجود ہیں۔ ایک ایک کارڈ اور ایک ایک آدمی اور ایک ایک روپیہ جو اب آتا ہے وہ خدا کا ایک زبردست نشان ہے۔ کیونکہ ایک عرصہ دراز پیشتر خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ : یا تون من کل فج عمیق۔ ویا تیک من کل فج عمیق اور ایسے وقت فرمایا تھا کہ کوئی شخص بھی مجھے نہ جانتا تھا۔ اب یہ پیشگوئی کیسے زوروشور سے پوری ہو رہی ہے۔ کیا اس کی کوئی نظیر بھی ہے؟ غرض ہمیں ضرورت کیا پڑی ہے کہ ہم زندہ خدا کو چھوڑ کر مردوں کو تلاش کریں۔؎ٰ ۲۷؍مارچ ۱۹۰۵ء؁ (بوقت ظہر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اہم مکتوب ظہر کی اذان ہو چکنے کے بعد اعلیٰ حضرت تشریف لائے۔ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرف زیارت پایا۔ زاں بعد حضرت مخدوم الملت مولوی عبد الکریم صاحب نے بابو عطا الٰہی صاحب سٹیشن ماسٹر کی طرف سے حصول اجازت کے لیے عرض کیا۔ آپ نے بابو عطا الیہی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ : مئی، جون، جولائی وغیرہ مہینوں میں کئی موقعہ یہاں رہنے کے لیے نکالنا چاہیے آئندہ جب رخصت لو تو ان مہینوں کو مدن نظر رکھ لینا۔ اس کے بعد حضرت مخدوم الملت نے عرض کیا کہ میں نے حضور کاوہ خط اخبار میں شائع کرنے کو دیدیا ہے اور اس پر ایک مضمون بھی لکھ دیا ہے۔ فرمایا : بہت اچھا کیا ہے