سلسلہ بیان کیا کرتی ہے لیکن اس سے اس کا عند اﷲ مقرب ہونا یا صاحب کرامت ہوان ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مسلمان کا کشف جس قدر صاف ہوگا اس قدر غیر مسلم کا ہرگز صاف نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیی ایک مسلم اور غیر مسلم میں تمیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے
قد افلح من زکھا (الشمس : ۱۰)
لیکن وحی کو کشف نہیں پاسکتا۔ یہ وحی کی ہی قدر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ سے اس کے لیے ایک شخص کو انتخاب کرتا ہے اور شرف مکالمہ بخشتا ہے اور ہر میدان میں اس کا حافظ و ناصر ہوتا ہے اور صاحب وحی کے تعلقات دن بہ دن خدا سے قائم ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں اور ایمان میں غیر معمولی ترقی روز مشاہدہ کرتا ہے۔؎ی
۲۵؍مارچ ۱۹۰۵ء (نماز عصر)
اپنی صداقت پر کامل یقین
عصر کی نماز سے پیشتر حضرت حجۃ اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی نے اپنے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمٰن صاحب سجادہ نشین سر سادہ کا خط سنایا جس میں انہوں نے حضرت حجتہ اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت بطور پیشگوئی لکھ اتھا کہ وہ جلد فوت ہو جائیں گے اور ان کے سلسلہ کا جاتمہ ہو جائے گا اور یہ بھی لیکھا تھا کہ میں کشف قبور کر سکتا ہوں اور کراسکتا ہوں۔ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو وہ بھی مجھے کشف قبور کر کے دکھائیں وغیرہ۔ ملخصاً۔
حضرت اقدس نے سرسری طور پر اس کا رڈکو سن لیا۔ پھر نماز عصر ادا فرمائی۔ بعد نماز عصر کوئی ایسی تحریک آپ کو ہوئی کہ آپ نے صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو وہیں مسجد ہی میں بلایا اور فرمایا جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
آپ ان کو اپنی طرف سے ایک خط لکھ دیں کہیہ پیشگوئی جو آپ نے کی ہے اس سے میری تو برسوں کی مراد بر آئی۔ میں بھی چاہتا تھا کیونکہ اس سے سچائی کا فیصلہ ہو جاتا،لیکن مہربانی کر کے اتنی تصریح کر دو کہ کیا وہ (مرزا صاحب) آپ سے پہلے فوت ہوں گے یا پیچھے تا کہ پھر اس پیشگوئی کو آپ کی کرامت قرار دے کر سائع کر دیا جاوے۔ جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی اس وقت دنیا دیکھ لے گی۔