پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ اُن کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوبؑ کوملے۔ جیسے گڑسے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اور کھانڈ سے دوسری شیرینیاں لطیف درلطیف بنتی ہیں۔ ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کارنگ اختیار کرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پر آجاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔
کشف اور وحی میں فرق
لیکن وحی ایسی شئے ہے جو کہ اس سے بدرجہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کشف تو ایک ہندو کو بھی ہو سکتا ہے، بلکہ ایک دہریہ بھی جو خدا کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن وحی سوائے مسلمان کو دوسرے کو نہیں ہو سکتی۔ یہ اسی اُمت کا حصہ ہے۔ کیونکہ کشف تو ایک فطرتی خاصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے یہ حاصل ہو سکتا ہے خواہ کوئی کرے، کیونکہ فرطرتی امر ہے جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا۔ ویسے ویسے اس پر اس کی خالتیں طاری ہوں گی ارو ہر ایک نیک و بد کو رؤیا کا ہوان اس امر پر دلیل ہے۔ دیکھا ہو گا کہ سچی خوابیں بعض فاشق و فاجر لوگوں کو بھی آجاتی ہیں’ پس جیسے اُن کو سچی خوابیں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الٰہی ایسی شے ہے کہ جبتک خدا سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لیے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
ان الذین قالو ا ربنا اﷲ ثم استقامو اتتنزل علیہم الملائکۃ الا تخافو اولا تحزنو ا وابشرو ابالجنۃ التی کنتم توعدون (حٰم اسجدۃ : ۳۱)
یہ اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ نزول وحی کا صرف اُن کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خد اکی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔ وحی ہی وہ شئے ہے کہ جس سے انالموجود کی آواز کان میں آکر ہر ایک شک و شبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل کا انسان کو خاصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحب کشف ایک دہریہ بھی ہو سکتاہے۔ لیکن صاحب وحی کبھی دہریہ نہیں ہوگا۔
اس مقام پر حضرت نورالدین صاحب حکیم الامۃ نے عرض کی کہ حضور سائل کا منشاء یہ ہے کہ یہ خواہش کسی طرح دل سے دور ہو جاوے۔
خدا کے برگزیدہ اور محبوب نے فرمایا کہ :
ان کے دل میں کشف کی جو عظمت بیٹھی ہوئی ہے جبتک وہ دور نہ ہوگی تو علاج کیسے ہوگا۔ اسی لیے تو میں فرق بیان کر رہا ہوں۔ ہمارے ہاں ایک چوڑھی (خاکروبہ) آتی ہے۔ وہ بھی سچی خوابوں کا ایک