اس کا تعلق مجاہدات اور ریاضات سے ہے۔ لیکن اب آپ کی عمر ان کی متحمل نظر نہیں آتی۔عالم شباب میں ایسے مجاہدات اور ریاضات انسان کر سکتا ہے جس سے اس پر یہ حالت جلد طاری ہو۔ پیرانہ سالی میں قویٰ ضعیف ہو جاتے ہیں۔ معدہ کام کرنے سے رہ جاتا ہے۔ اس لیے مجاہدات میں استقامت حاصل نہیں ہوتی۔آپ کے مناسب حال اگر کوئی مجاہدہ ہے تو میری رائے میں یہ ہے کہ خلوت کے درمیان ذکر الٰہی اور توجہ الی اﷲ کی کثرت کریں۔ غیر اﷲ کو قلب سے دفع کرنا اور اﷲ تعالیٰ کو اس کا مسکن بنا لینا آسان کام نہیں ہے۔ یہی بڑا مجاہدہ ہے۔ بیہودہ مجلسوں اور قی۸ل و قال سے الگ رہیئے۔ اور غفلت کے پردہ کو جو کہ انسنا کی زندگی پر پڑے ہوئے ہیں اُن کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ پیرانہ سالی کے لحاظ سے یہ عمدہ مجاہدہ ہے جس سے تزکیۂ نفس ہو سکتا ہے، کیونکہ اب اس عمر میں نوافل اور روزے وغیرہ کی برداشت مشکل ہے۔ اس کا مطلب اس شعر میں خوب بیان ہے۔
لب بہ بند و گوش بند و چشم بند
گر نہ بینی نور حق برما بخند
کہ انسان اپنی زبان کو اور کانوں اور آنکھوں کو اپنے قابو میں ایسا کرے کہ سوائے رضائے حق کے اور اُن سے کوئی فعل صادر نہ ہو۔ انسانی زندگی میں جو بے اعتدالی ہوتی ہے اُسے اعتدال پر لانا بڑا کام ہے۔ اب اس وقت یہی مناسب حال ہے کہ خلوت بہت ہواور ذکر الٰہی سے قلب غافل نہ ہو۔ اگر انسن اس کی مداومت اختیار کرے تو آخر کار قلب موآثر ہو جاتا ہے اور ایک تبدیلی انسان اپنے اندر رکھتا ہے۔
کشف رؤیا کا اعلیٰ درجہ ہے
کشف کیا ہے یہ رؤیا کا ایک اعلیٰ مقام اور مرتبہ ہے اس کی ابتدائی حالت کہ جس میں غیبت حس ہوتی ہے۔ صرف اس کو خواب (رؤیا) کہتے ہیں۔ جسم بالکل معطل بیکار ہوتا ہے اور حواس کا ظاہری فعل ساکت ہوتا ہے۔ لیکن کشف میں دوسرے حواس کی غیبت نہیں ہوتی۔ل بیداری کے عالم میں انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو کہ نیند کی حالت میں حواس کے معطل ہنے کے عالم میں دیکھتا تھا۔ کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو۔ اور حواس خمسہ اس کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اُسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔ وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔ کبھی بصر میں، کبھی شامہ سونگھنے میں، کبھی سمع میں، شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسفؑ کے والد نے کہا
انی لا جدریح یوسف لو لا ان تفندون (یوسف : ۵)
(کہ مجھے یوسفؑ کی خوشبو آتی ہے۔ اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا) اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوبؑ کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیاکہ یوسف ؑ زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔ اس خوشبو کو دوسرے