لگتے ہیں۔ سائل:- ابتدائی منزل اس مقصد کے حصول کی کیا ہے؟ حضرت اقدس :- ابتدائی منزل یہی ہے کہ جسم کو اسلام کا تابع کرے۔ جسم ایسی چیز ہے جو ہر طرف لگ سکتاہے۔ بتائو زمینداروں کو کون سکھاتا ہے جو جیٹھ ہاڑ کی سخت دھوپ میں باہر جاکر کام کرتے ہیں اور سردیوں میںآدھی آدھی رات کو اُٹھ کر باہر جاتے اور ہل چلاتے ہیں۔ پس جسم کو جس طریق پر لگائو اسی طریق پر لگ جاتا ہے۔ ہاں ا س لیے ضرورت ہے عزم کی۔ کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ مٹی کھایا کرتا تھا۔ بہت تجویرزیں کی گئیں مگر وہ باز نہیں رہ سکتا تھا۔ آخر ایک طبیب آیا اس سے دعویٰ کیا کہ میں اس کو روک دوں گا؛ چنانچہ اس نے بادشاہ کو مخاطب کرکے کہا: ایھا الملک این عزم الملوک یعنی اے بادشاہ! وہ بادشاہوں والا عزم کہاں گیا؟ یہ سن کر بادشان نے کہا اب میں مٹی نہیں کھائوں گا۔ پس عزم مومن بھی تو کوئی چیز ہے۔ سائل:- عزم کرتے تو آپ کو کیا ضرورت ہے؟ حضرت اقدس :- بات یہ ہیکہ جب نفوس صافیہ کا جذب ہوتا ہے تو ممدو معاون بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ صحابہؓ کے دل اچھے تھے تو اﷲ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک رسول بھی پیدا کر دیا ۔ ایسا ہی کہتے ہیں کہ مکہ سے جو مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اس میں بھی یہی سر تھا کہ وہاں کے اصلاح پذیر قلوب کا ایک جذب تھا۔؎ٰ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۵ء؁ بوقت شب پیرانہ سالی کے لحاظ سے عمدہ مجاہدہ ایک صاحب نے عرض کی کہ ایک عرصہ سے میرے دل میں خواہش ہے کہ کشف کی حالت طاری ہو اور اگر چہ میں اپنے علم کی رو سے جانتا ہوں کہ اس کا حاصل ہونا کوئی کمالات میں سے نہیں ہے مگر تاہم اس کا خیال ہرگز دور نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ شفاعت فرماویں۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ :