سائل :- حضور نمازیں پڑھتے ہیں۔ مگر منہیات سے باز نہیں رہتے اور اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت اقدس:- نمازوں کے نتائج اور اثر تو تب پیدا ہوں۔ جب نمازوں کو سمجھ کر پڑھو بجز کلام الٰہی اور ادعیۂ ماثورہ کے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اور پھر ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھو۔ یہی ایک امر ہے جس کی بار بار تاکید کرتا ہوں کہ تھکو اور گھبرائو نہیں۔ اگر استقلال اور صبر سے اس راہ کو اختیار کرو گے تو انشاء اﷲ یقینا ایک نہ ایک دن کامیاب ہو جائو گے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ ہی کو مقدم کرو اور دین کو دنای پر ترجیح دو۔ جب تک انسان اپنے اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یاد رکھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کے دین کا نام بھی لے۔ یہ بھی ایک غلطی لوگوں کو لگی ہوئی ہے کہ دنیا کے بغیر دین حاصل نہیں ہوتا۔ انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں آئے ہیں۔ کیا انہوں نے دنیا کے لیے سعی اور مجاہدہ کیا ہے یادین کے لیے؟ اور باوجود اس کے کہ اُن کی ساری توجہ اور کوشش دین ہی کے لیے ہوتی ہے۔ پھ رکیا وہ دنیا مین نامارد رہے ہیں۔ کبھی نہیں۔ دنیا خود اُن کے قدموں پر آگری ہے۔ یہ یقینا سمجھو کہ اُنہوں نے دنیا کو گویا طلاق دے دی تھی۔للیکن یہ ایک عام قانون قدرت ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنای کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنای ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹہھراتے ہیں خواہ وہ دنای کو کسی قدر بھی حاصل کرلیں مگر آخر ذلیل ہوتے ہیں۔ سچی خوشی اور اطمینان اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عطا ہوتا ہے۔ یہ مجرد دنیا کے حصول پر منحصر نہیں ہے۔ اس لیے ضروری امر ہے کہ ان اشیاء کو اپنا معبود نہ ٹھہرائو۔ اﷲ تعالیٰ پر ایمان لائو اور اسی کو یگانہ و یکتا معبود سمجھو۔ جبتک انسان ایمان نہیں لاتا۔ کچھ نہیں اور ایسا ہی نماز روزہ میں اگر دنیا کو کوئی حصہ دیتا ہے تو وہ نماز روزہ اُے منزل مقصود تک نہیں لے جا سکتا۔بلکہ محض خد اکے لیے ہو جاوے۔ قل ان صلاتی و نسکی و محیا ی ومما تی ﷲ رب العالمین (الانعام : ۱۶۳) کا سچا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا۔ ابراہیم کی طرح صادق اور وفادار ہونا چاہیے۔ جس طرح پر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزوئوں کو جب تک قربان نہیں کر دیتا کچھ نہیں بنتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسنا اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف اس کو ایک جذبہ پیدا ہو جاوے۔ اس وقت اﷲ تعالیٰ خود اس کا متکفل اور کارساز ہو جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر نقص اور خرابی ہوگی تو ہم میں ہوگی۔ پس یاد رکھو کہ جبتک انسان خدا تعالیٰ کا نہ ہو جاوے بات نہیں بنتی اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اس میں شتابکاری نہیں رہتی ۔ مشکل یہی ہے کہ لوگ جلد گھبرا جاتے ہیں پھر شکوہ کرنے