اصل بات یہ ہے کہ ایک فعل انسنا کا ہوتا ہے اس پر نتیجہ مرتب کرنا ایک دوسرا فعل ہوتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کا فعل ہے۔ سعی کرنا ، مجاہدہ کرنا یہ تو انسان کا اپنا فعل ہے۔ اس پر پاک کرنا، استقامات بخشنا یہ ال تعالیٰ کا فعل ہے۔ بھلا جو شخص جلدی کرے گا کیا اس طریق پر وہ جلد کامیاب ہو جائے گا؟ یہ جلد بازی انسان کو خراب کرتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ دنای کے کاموں میں بھی اتنی جلکدی کوئی امر نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ آخر اس پر کوئی وقت اور میعاد گذرتی ہے۔ زمیندار بیج بو کر ایک عرصہ تک صبر کے ساتھ اس کے انتظار کرتا ہے۔ بچہ بھی نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ پہلی ہی خلوت کے بعد بچہ پیدا ہو جاوے تو لوگ اسے بیوقوف کہیں گے یا نہیں؟ پھر جب دنیوی امور میں قانون قدرت کو اس طرح دیکھتے ہو تو یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے کہ دینی امور میں انسان بلا محنت و مشقت کے کامیاب ہو جاوے۔ جس قدر اولیای؎ء، ابدال، مرسل ہوئے ہیں انہوں نے کبھی گھبراہٹ اور بزدلی اور بے صبری ظاہر نہیں کی۔ وہ جس طریق پر چلے ہیں اسی راہ کو اختیار کرو اگر کچھ پانا ہے۔ بغیر اس راہ کے تو کچھ مل نہیں سکتا۔ اور میں یقینا کہتا ہوں۔ اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو اطمینان جب نصیب ہوا ہے تو
ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱)
پر عمل کرنے سے ہی ہوا ہے۔ مجاہدات عجیب اکسیر ہیں سید عبدالقادر رضی اﷲ عنہ نے کیسے کیسے مجاہدات کئے۔ ہندوستان میں جو اکابر گذرے ہیں جیسے معین الدین چشتی اور فریدالدین رحمہم اﷲ تعالیٰ۔ اُن کے حالات پڑھو تو معلوم ہوکہ کیسے کیسے مجاہدات ان کو کرنے پڑے ہیں۔ مجاہدہ کے بغیر حقیقت کھلتی نہیں۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فقیر کے پاس گئے اور اس نے توجہ کی تو قلب جاری ہو گیا۔ یہ کچھ بات نہیں۔ ایسے ہندو فقراء کے پاس بھی جاری ہوتے ہیں۔ توجہ کچھ چیز نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ساتھ تزکیۂ نفس کی کوئی شرط نہیں ہے،؎۔ نہ اس میں کفر واسلام کا کوئی امتیاز ہے۔ انگریزوں نے اس فں میں آجکل وہ کمال کیا ہے کہ کوئی دوسرا کیا کرے گا۔ میرے نزدیک یہ بدعات اور محدثات ہیں۔
شریعت کی اصل غرض تزکیۂ نفس ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اسی مقصد کو لے کر آتے ہیں۔ اور وہ اپنے نمونہ اور اسوہ سے اس راہ کا پتہ دیتے ہیں جو تزکیہ کی حقیقی راہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا ہو ا اور شرح صدر حاصل ہو۔ میں بھی اسی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔ پس اگر کوئی یہ چاہت اہے کہ میں کسی ٹوٹکے سے قلب جاری کر سکت اہوں تو یہ غلط ہے۔ میں تو اپنی جماعت کو اسی راہ پر لے جاانا چاہتا ہوں جو ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام کی راہ ہے جو خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت تیار ہوئی ہے۔ پس اور راہ وغیرہ کا ذکر ہماری کتابوں میں آپ نہ پائیں گے۳ اور نہ اس کی ہم تعلیم دیتے ہیں اور نہ ضرورت سمجھتے ہیں۔ ہم تو یہی بتاتے ہیں کہ نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو اور دعائوں میں لگے رہو۔