ہے ۔ جبتک انسان اس تنگ دروازہ سے داخل نہ ہو کچھ نہیں ۔ خدا جوئی کی راہ میں لفظ پرستی سے کچھ نہیں بنتا۔ بلکہ یہاں حقیقت سے کام لینا چاہیے۔ جب طلب صادق ہوگی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ اسے محروم نہ کرے گا۔ سائل :- استقامت بھی تو ملنی چاہیے۔ حضرت اقدس :- ہاں یہ سچ ہے کہ استقامت ہونی چاہیے اور یہ استقامت بھی اﷲ تعالیٰ کے فضل اور کرم ہی سے ملتی ہے۔ ایک ادنیی درجہ کا فقیر بھی ایک بخیل سے بخیل انسان کے دروازے پر جب دھرنا مارتا ہے تو کچھ نہ کچھ لے کر ہی اُٹھتا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ تو کریم رحیم خدا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ کوئی اس کے دروازے پر گرے اور خالی اُٹھا۔ اگر چاہتے ہو کہ ساری مرادیں پوری ہو جاویں تو یہ تو اُس کے ہی فضل سے ہوں گی۔ بعض اوقات انسان کو یہ بھی دھوکا لگتا ہے کہ فلاں مراد پوری نہیں ہوئی؛ حالانکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ احتیاج سے ہی انسان کو بری کر دیتا ہے۔ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کا گذار ایک فقیر پر ہوا جس کے پاس صرف ستر پوشی کو چھوٹا سا پارچہ تھا مگر وہ بہت خوش تھا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تو اس قدر خوش کیوں ہے؟ فقیر نے جواب دیا کہجس کی ساری ہی مرادیں پوری ہو جاویں وہ خوش نہ ہو تو اور کیا ہو؟ بادشان کو بڑی حیرانی ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ کیا تیری ساری مرادیں پوری ہو گئی ہیں؟ فقیر نے کہا کہ کوئی مراد ہی نہیں رہی۔ حقیقت میں حصول دو ہی قسم کا ہوتا ہے۔ یا پالے یا ترک۔ غرض بات یہی ہے کہ ’’خدایا بی‘‘ اور ’’خدا شناسی‘‘ کے لیے ضروری امر یہی ہے کہ انسان دعائوں میں لگا رہے۔ زنا نہ حالت اور بزدلی سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس راہ میں مردانہ قدم اُٹھانا چاہیے۔ ہر قسم کی تکلیفوں کے برداشت کرنے کو تیار ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ کو مقدم کرلے اور گھبرائے نہیں۔ پھر امید کی جاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا فضل دستگیری کرے گا اور اطمینان عطا فرمائے گا۔ ان باتوں کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسنا تزکیۂ نفس کرے جیسا فرمایا ہے۔ قد افﷲح من زکھا (الشمس : ۱۰) سائل : - دعا جبتک دل سے نہ اُٹھے کیا فائدہ ہوگا؟ حضرت اقدس :- میں اسی لیے تو کہتا ہوں کہ صبر کرنا چاہیے۔ اور اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔ کشاں کشاں مسجد میں لے آئو۔ کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر وساوس رہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ تونے ایک حضہ پر تو قبضہ کر لیا۔ دوسرا بھی حاصل ہو جائے گا۔ نماز پڑھنا بھی تو ایک فعل ہے اس پر مداومت کرنے سے دوسرا بھی انشاء اﷲ مل جائے گا۔