ذکر الٰہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہوگا۔ ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔ دیکھو ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کس صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اس نے دانے ضائع کر دیئے۔ لیکن ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھرے ہوئے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے۔ وہ اﷲ تعالیٰ پر حسنِ ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اسی طرح پر مومن جب اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کرکے استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اُسے ہ زوق شوق اور معرفت عطا کرتا ہے۔ جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔ یہ بڑی غلطی ہے جو لوگ کوشش اور سعی تو کرتے نہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ ہمیں ذوق شوق اور معرفت اور اطمینانِ قلب حاصل ہو جبکہ دنیوی اور سفلی امور کے لیے محنت اور صبر کی ضرورت ہے تو پھر خدا تعالیی کو پھونک مار کر کیسے پا سکتا ہے۔ دنیا کے مصائب اور مشکلات سے کبھی گھبرا نا نہیں چاہیے۔ اس راہ میں مشکلات کا آنا ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مصائب کا سلسلہ دیکھو۔ کس قدر لمبا تھا۔ تیرہ سال تک مخالفوں سے دُکھ اٹھاتے رہے۔ مکہ والوں کے دُکھ اٹھاتے اُٹھاتے طائف گئے اور وہاں سے پتھر کھا کر بھاگے۔ پھر اور کوئی شخص ہے جو ان مصائب کے سلسلہ سے الگ ہو کر خدا شناسی کی منزلوں کو طے کر لے؟ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے وہ بیہودہ خیال کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے۔ والذین جاھدو افینا لنھد ینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کے لیے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔ اور وہ مجاہدہ اسی طریق پر ہو جس طرح کہ اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے۔ اس کے لیے آنحضرت ﷺ کا نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے۔ بہت سے لوگ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو۰ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر سبزپوش یا کیردے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں۔ یہ بیہودہ بات ہے۔ ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ سے بھی اپین مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہدایت دینا اﷲ تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ مشت خاک ہو کر خود ہدایت دینے کے مدعی ہوتے ہیں۔ اصل راہ اور گر خدا شناسی کا دعا ہے اور پھر صبر کے ساتھ دعائوں میں لگا رہے۔ ایک پنجابی فقرہ ہے ؎ جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا حقیقت میں جبتک انسان دعائوں میں اپنے آپ کو اس حالت تک نہیں پہنچا لیتا کہ گویا اس پر موت وارد ہو جاوئے۔ اس وقت تک باب رحمت نہیں کھُلتا۔ خدا تعالیٰ میں زندگی ایک موت کو چاہتی