حوالے ہوں گے کہ خدا نے یوں فرمایا تھا اور وہ اس طرح پورا ہو کر رہا۔ سادگی سچائی کی دلیل ہے براہین میں ہم نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح آسمان سے آویں گے۔ اس پر لوگوں نے اعتراض کئے کہ تناقض ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسی براہین میں ہم نے تمام الہامات بھی درج کئے ہیں جن میں ہمارا نام مسیح رکھا گیا ہے اور پھر صرف نام ہی نہیں بلکہ جو کام مسیح نے آکر کرنا ہے اس کی نسبت بھی الہامات میری نسبت ہی درج ہیں۔ پس یہ تناقض تو سچائی کی دلیل ہے۔ کیونکہ اگر بناوٹ ہوتی تو تناقض نہ جمع کیا جاتا۔ کم بختوں کی نظر انسان کی غلطی پر تو پڑتی ہے اور خدا کے کالم پر جو اس مین درج ہے نہیں پڑتی۔ ایک الہام کل یا پرسوں آپ کو الہام ہوا : انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون ۳؍مارچ ۱۹۰۵ء؁ (قبل ظہر) بعض نکات معرفت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مولوی محمد ابراہیم صاحب کو حضرت اقدس حجۃاﷲ مسیح موعود ؑ کے حضور پیش کیا۔ مولوی موصوف نے حضرت مسیح موعودؑ سے چند استفسار کئے۔حضور نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا درج ذیل ہے: سائل: -اطمینانِ قلب کیونکر حاصل ہو سکتا ہے؟ حضرت اقدس:- قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیی کا ذکر ایسی شئے ہے جو قلبو کو اطمینان عطا کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا۔ الا بذکر اﷲ تطمئن القلوب (الرعد : ۲۹) پس جہانتک ممکن ہو