طرح جنات الٰہی میں وہ شخص پر لے درجہ کا بے ادب ہے جو چند روزہ دنیوی منافع پر نگاہ رکھ کر خدا تعالیٰ کو چھوڑتا ہے۔ بیعت کی حقیقت بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کر کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔صادق کبھی نقصان نہیں اٹھاسکتا۔نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔جو دنیا کے لیے بیعت کو اور عہد کو جو اﷲ تعالیٰ سے اس نے کیا ہے توڑرہا ہے۔وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے۔وہ یاد رکھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اسے نہ چھڑا سکے گا۔اس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کریگا کہ تو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اس لیے ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ خدا جو ملک السموات و الارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ امر بھی یونہی حاصل نہیں ہوتا۔خدا ہی یہ امر دل میں بٹھئے تو بیٹھ سکتا ہے۔سو اس کے لیے دعا بکار ہے۔جو شخص اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صدق سے قدم اٹھاتا ہے اس کو عظیم الشان طاقت اور خارق عادت قوت دی جاتی ہے۔مومن کے دل میں ایک جذب ہوتا ہے کہ جس سے قوت جاذبہ کے ذریعہ وہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر تم میں جذب محبت خدا تعالیٰ کی راہ میں کافی ہو تو پھر کیوں لوگ تمہاری طرف نہ کے آویں اور کیوں تم میں ایک مقناطیسی طاقت نہ ہو جاوے۔دیکھو قرآن میں سورۂ یوسف میں آیا ہے۔ ولقد ھمت بہ وھم بہا لو لا ان را برھان ربہ (یوسف : ۲۵) یعنی جب زلیخا نے یوسف کا قصد کیا یوسف بھی زلیخا کا قصد کرتا اگر ہم حائل نہ ہوتے۔اب ایک طرف تو یوسف جیسا متقی ہے اور اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نبی زلیخا کی طرف مائل ہو ہی چکا تھا اگر ہم نہ روکتے۔اس میں سر یہ ہے کہ انسان میں ایک کشش محبت ہوتی ہے۔زلیخا کی کشش محبت اس قدر غالب آئی تھی کہ اس کشش نے ایک متقی کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔سو جائے شرم ہے کہ ایک عورت میں جذب اور کشش اس قدر ہو کہ اس کا اثر ایک مضبوط دل پر ہو جاوے اور ایک شخص جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس میں جذب محبت الٰہی اس قدر نہ ہو کہ لوگ ا سکی طرف کھینچے چلے آویں۔یہ عذر قابل پذیرائی نہیں کہ زبان میں یا وعظ میں اثر نہیں۔اصلی نقصان قوت جاذبہ میں ہے۔جب تک وہ کامل نہیں تب تک زبانی خالی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہو تا۔