دہریت کو نبی کا وجود ہی جلاسکتا ہے فرمایا کہ :
دہریہ پن کو اگر کوئی شئے جلاسکتی ہے تو وہ صرف انبیاء کا وجود ہے؛ ورنہ عقلی دلائل سے وہاں کچھ نہیں بنتا۔ کیونکہ عقل کی حد سے تو پیشتر ہی گذرکر وہ دہریہ بنتا ہے۔ پھ رعقل کی پیش اس کے آگے کب چل سکتی ہے۔
خد انمائی کی ضرورت فرمایا کہ:
آج کل خدا نمائی کی بڑی ضرورت ہے۔ دراصل اگر دیکھا جاوے تو خد کی ہستی سے انکار ہورہا ہے۔بہت لوگوں کو یہ خیال ہے کہ کیا ہم خد اکی ہستی کے قائل نہیں ہیں۔ وہ اپنے زعم میں تو سمجھتے ہیں کہ خد اکو وہ مانتے ہیں لیکن ذرا غور سے ایک قدم رکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ وہ درحقیقت قائل نہیں ہیں کیونکہ اور اشیء کے وجود کے قائل ہونے سے جو حرکات اور افعال ان سے صادر ہوتے ہیں وہ خدا کے وجود کے قائل ہونے سے کیوں صادر نہیں ہوتے۔ مثلاً جب کہ وہ سم الفار سے واقف ہے کہ اس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے تو وہ اس کے نزدیک نہیں جاتا اور نہیں کھات کیونکہ اُسے یقین ہے کہ میں اگر کھالوں گا تو مرجائوں گا ۔پس اگر خد اکی ہستی پر بھی یقین ہوتا تو وہ اسے مالک، خالق وا رقادر جان کر نافرمانی کیوں کرتا؟ پس ظاہر ہے کہ بڑا ضروری مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ہے اور قابل قدر وہی مذہب ہو سکتا ہے جو کہ اسے نئے نئے لباس میں پیش کرت رہے تا کہ دلوں پر اثر پڑ سکے۔ دراصل یہ مسئلہ امّالمسائل ہے اور اسلام اور غیرمذاہب میں ایک فرقان ہے۔
عیسائیوں نے بھی فرقان کا دعویٰ کیا ہے کہ انجیل نے ایماناداروں کی فلاں فلان علامت قرار دی ہے مگر اب وہ کسی میں بھی پائی نہیں جاتیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایمان کا نام و نشان نہیں مگر اسلام میں فرقان کی سب علامات موجود ہیں۔
براہین احمدیہ عہد عتیق ہے
جو براہین احمدیہ کا حصہ چھپ چلکا ہے۔ اس پر ذکر چلا۔ فرمایا کہ :
اس میں خدا کی حکمت تھی؛ ورنہ اگر وہ چاہتا تو اسے ہم لکھتے ہی رہتے۔ لیکن خدا نے اب اول حصہ کو منقطع کر کے بائبل کے عہد عتیق کی طرح الگ کر دیا ہے، کیونکہ جو پیشگوئیاں اس میں درج ہیں وہ اب اس اثنا میں پوری ہو رہی ہیں اور جو حصہ اس کا طبع ہوگا وہ عہد جدید ہوگا جس میں سابقہ حصہ کے