خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا تذکرہ رہا۔ بعض کفار کی حالت پر آپ نے فرمایا کہ : جب تک اﷲ تعالیٰ کا فضل انسان کے شامل حال نہ ہو تب تک اُسے ہدایت کی راہ نصیب نہیں ہوتی۔ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ موت تک کفر ہی پر راضی رہتے ہیں اور کبھی اُن کے دل میں خیال نہیں گذرتا کہ ہم غلطی پر ہیں حتیٰ کہ اسی میں مرجاتے ہیں۔ اس میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ چند یوم ہوئے ایک دوست بیان کرتے تھے کہ ان کے گائوں کی آبادی چار سو باشندوں کی تھی۔ طاعون جو بڑی تو سب کے سب ہلاک ہو گئے صرف چالیس شخص بچے۔ اور ان میں سے بھی صرف نوکس تندرست تھے اور باقی کچھ نہ کچھ مریض ہی تھے۔ ان نو میں اُن کا چچا بھی تھا۔ ان کے دل میں آیا کہ اس قدر عبرتناک حادثہ موت کا چونکہ گائوں میں گذار ہے،ممکن ہے کہ چچ کا دل رقیق ہوا ہو۔ چلو ا۲سے چل کر تبلیغ کر آویں شاید ہدایت نصیب ہو۔ باوجود اس کے کہ لوگوں نے اس طاعون زدہ گائوں میں جانے سے روکا مگر تبلیغ حق کے جوش میں وہ چلے گئے اور جا کر اپنے چچا کو اس سلسلہ کی صداقت کی نسبت سمجھایا ۔ چچانے یہ جواب دیا کہ اگر یہ طاعون مرزے کی مخالفت کی وجہ سے ہے تو مجھے خوشی سے اس سے مر جانا قبول ہے۔ بیشک مجھے طاعون ہو۔ انجام یہ ہوا کہ وہ اور اس کا تمام بال بچہ تباہ اور ہلاک ہوگیا، مگر مخالفت پر برابر آمادہ رہا اور مرتے دم تک نہ مانا۔؎ٰ ۲۱؍فروری ۱۹۰۵ء؁ (مابین مغرب و عشاء) فارغ نشینی اچھی نہیں حسب دستور قریب ایک گھنٹہ کے حضور نے مجلس فامائی۔ اول رسالہ زیر تصنیف کا ذکر رہا۔ پھر فرمایا کہ : اول تو بوجہ علالت طبع کے فارغ نشینی رہی۔ اب خدا نے کچھ صحت عطا فرمائی ہے تو قلم میں بھی قوت آگئی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ صحت رکھے تو فارغ نشینی اچھی نہیں ہے۔ بندہ اگر خدمت ہی کرتا رہے تو خوب ہے۔