حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ : اسے چاہیے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دیدے۔ اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے۔ شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علیی ہذاالقیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔ ایک لطیف نکتہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اثناء گفتگو میں ذکر کیا کہ یہ ایک لطیف بات ہے کہ جس قدر مجدد گذرے ہیں ان کے نام کی محمدیا احمد کی جزو ضروری ہوتی رہی ہے۔ قسطنطنیہ میں عجیب قسم کے نام لوگوں کے ہوتے ہیں مگر وہ مہدی جس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا اس کے نام میں بھی محمد کا لفظ تھا۔ معجزات میں افراط و تفریط موجودہ زمانے کے حالات پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک گروہ تو معجزت سے قطعی منکر ہے جیسے کہ نیچری اور آریہ وغیرہ۔ اس نے تفریط کا پہلو اختیار کیا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جو کہ افراط کی طرف چلا گیا ہے جیسے کہ بعض لوگ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے معجزات بیان کیا کرتے ہیں کہ بارہ برس کی ڈوبی ہوئی کشتی نکالی اور حضرت عزرائیل کے ہاتھ سے آسمان پر جا کر قبض شدہ ارواح چھین لیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے معجزہ کی حقیقت کو نہیں سمجھا ہے۔معجزاہ سے مراد فرقان ہے جو حق اور باطل میں تمیز کرکے دکھادے اور خدا کی ہستی پر شاہد ناطق ہو؎ٰ۔ ۲۰؍فروری ۱۹۰۵ء؁ قبل از عشاء خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہدایت حاصل نہیں ہوتی حضورؑ نے عشاء کی نماز سے کچھ پیشتر تشریف لا کر مجلس فرمائی۔