جھوٹے کی تو پھر دنای سے امان اُٹھ جاوے گا۔ پس یاد رکھو کہ قول کے اشتباہ فعل سے ہی دور ہو سکتے ہیں ۔ میرے ساتھ جو وعدے خدا تعالیٰ کے ہیں وہ بچیں تیس سال پیشتر براہین میں درج ہو چکے ہیں اور بہت سے پورے ہو گئے ہیں۔ جو باقی ہیں چاہو ت ان کا انتظار کرو۔ الہام میں دخل شیطانی بھی ہوتا ہے جیسے کہ قرآن شریف سے بھی ظاہر ہے، مگر جو شخص شیطان کے اثر کے نیچے ہو اُسے نصرت نہیں ملا کرتی۔ نصرت اُسے ہی ملا کرتی ہے جو رحمان کے زیر سایہ ہو۔ ہم اپنی زبان سے کسی کو مفتری نہیں کہتے۔ جبکہ وحی شیطانی بھی ہوتی ہے توممکن ہے کہ کسی سادہ لوح کو دھوکا لگا ہو۔ اس لیے ہم فعل الٰہی کی سند پیش کرتے ہیں۔ رسول اﷲ ﷺ نے بھی یہ پیش کی تھی اور خدا تعالیٰ نے فعل پر بہت مدار رکھا ہے۔ ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین (الحاقۃ : ۴۵، ۴۶) میں فعل ہی کا ذکر ہے۔ پس جبکہ یہ مسنون طریق ہے تو اس سے کیوں گریز ہے۔ ہم لوگوں کے سامنے ہیں اور اگر فریب سے کام کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسے عذاب سے ہلاک کریگا کہ لوگوں کو عبرت ہو جاوے گی اور اگر یہ خد اکی طرف سے ہے اور ضرور خدا کی طرف سے ہے تو پھر دوسرے لوگ ہلاک ہو جاویں گے۔؎ٰ ۱۹؍فروری ۱۹۰۵ء؁ بعد نماز مغرب آج کا دن اپنی شان میں ایک مبارک دن تھا کیونکہ غالباً سات ماہ کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے مغرب اور عشاء کے درمیان مجلس فرمائی اور جو رسالہ دربارہ فتح مقدمہ حضور تصنیف فرمارہے ہیں۔ اس کے مجوزہ مضامین کا مختصر تذکرہ فرمایا : واجب الاد امہر کی ادائیگی اس کے بعد ایک صاحب نے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا ہے۔ مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دیدے تو بخش دوں۔ خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں۔ بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں۔ اب وہ عورت مر گئی ہے خاوند کیا کرے؟