قول سے مراد ہماری وحی الٰہی ہے اور فعل سے نصرت اور تائیدات الٰہیہ۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فعل کو دکھلائو تو یاد رہے کہ اس کا جلدی ظاہر کرنا ہمارا اپنا اختیار نہیں ہے اور کسی نبی کے اختیار میں بھی یہ بات نہیں ہوئی کہ وہ آیات اﷲ کو جب چاہے دکھادیوے۔ ہاں خلق اﷲ کی خاطر ن کو اس کسم کے اضطراب ضرور ہوتے ہیں اور وہ خواہاں ہوتے ہیں مگر آخر آیات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنے مصالح سے ان کو کھولتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو بھی بڑا اضطراب تھا تو خدا تعالیٰ نے وحی کی کہ تو آسمان پر زینہ لگا کر جا اُن کو نشان لادے۔
اگر ہم کذاب اور دجال ہیں تو صبر کرو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔
ان یک کاذ با فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم (المومن : ۲۹)
جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یہ کبھی اتفاق نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کاذب کی تائید کرکے سچوں کوشکست دی ہو۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آپؐ کے مقابلہ پر الاہم کے مدعی موجود تھے اور وہ آپ کو جھوٹا خیال کرتے تھے۔ مسیلمہ کذاب بھی انہی میں تھا۔ اگر قول پر مدار ہوتا تو اشتباہ رہتا مگر آخر فعل الٰہی ہے فیصلہ کر دیا۔ دیکھ لو کہ اب کس کے دین کا نقارہ بج رہا ہے۔کس کا نام روشن ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس کو برکت دی جاتی ہے وہ بڑھتا ہے وہ پھلتا ہ اور پھولتا ہے اور اس کے دشمنوں پر اُسے فتح پر فتح ملتی ہے۔ لیکن جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا وہ مثل جھاگ کے ہوتا ہے جو کہ بہت جلد نابود ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ جس کا مدار تقویٰ پر ہوگا اور جس کے خدا تعالیٰ کے ساتھ پاک تعالقات ہوں گے اسی کو نصرت ہوگی۔ یہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ہے کہ اس وقت اور ملہم ہمیں جھوٹا قرار دیتے ہیں بلکہ عیسیٰ ؑ اور موسیٰ ؑکے زمانہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو کہ ملہم تھے اور وہ نبیوں کی تکذیب کرتے تھے تو اس وقت کے دانائوں نے یہی ھیصلہ دیا تھا کہ جو سچا ہوگ ااس کا کاروبار بابرکت ہوگا۔پس اب بجز اس بات کے اور فیصلہ نہیں نظر آتا کہ اگر قول میں پیچیدگی ہے تو فعل کو دیکھو، لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ درخواست کہ فعل ظاہر ہو عبث ہے۔ میں تو ایک عاجز بندہ ہوں، یہ خد اکا کام ہے کہ جو فعل وہ چاہے ظاہر کردے۔ میں کیا ہوں۔ خود رسول اﷲ ﷺ نے یہی جواب دیاکہ
انما الایات عند اﷲ وانما انا نذیر مبین (العنکبوت : ۵۱)
انبیاء کا کام بازیگروں کی طرح چٹے بٹے دکھانا نہیں ہوتا۔ وہ تو خدا تعالیٰ کے پیغام رساں ہوتے ہیں۔ علمی بحث الگ ہے اور الہامی بحث الگ ہے۔ مختصر فیصلہ یہی ہے کہ اگر قول میں تعارض ہے تو فعل خود فیصلہ کر دے گا۔ ایک مفتری تحصیلدار گورنمنٹ سے عزت نہیں پاسکتا اور گرفتار کیا جاتا ہے تو مفتری علی اﷲ کیسے اس کا محبوب ہو سکت اہے اور وہ کب اس کی تائید کر سکتا ہے۔ اگر سچے کی عزت بھی ویسی ہو جیسے کہ