اور مرزا صاحب کاذب اور دجال ہیں۔پھر ادھر ہماری جماعت میں بھی ہزار ہا ایسے آدمی ہیں جن کو الہام اور رؤیا کے ذریعہ سے یہ اطلاع ملی ہے اور خدو رسول اﷲ ﷺ نے زبان مبارک سے تصدیق کی ہے کہ یہ سلسلہ منجانب اﷲ ہے اور یہی ذریعہ ان کی بیعت کا ہوا ہے تو اب ان مختلف اقسام کے الہاموں میں جلدی سے فیصلہ کرنا تقویٰ سے بعید ہے۔اس لیے میں جلدی کو پسند نہیں کرتا۔ انسان کو چاہیے کہ صبر اور دعا سے کام لے اور تقویٰ کے پہلو کو ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
ان اﷲ مع الذین التقوا (النحل : ۱۲۹)
اس وقت خدو اسلام میں کئی فرقے موجود ہیں۔ جو کہ ایک دوسرے کی تردید کر رہے ہیں۔ پھر دوسرے مذاہب کے حملے الگ ہیں۔ ایک کتاب ’’ترکِ اسلام‘‘ لکھی گئی تھی اور اب ایک ’’ تہذیب الاسلام‘‘ لکھی گئی ہے جس میں پیغمبر خدا ﷺ پر سخت فحش اور شرمناک حملے کئے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کل مذاہب اور فرقوں میں ایک جنگ چل رہی ہے اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے کہ ہم حق پر ہیں۔پس ایسی حالت میں فیصلہ کرنا ایک آسان امر نہیں ہے۔ یا تو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی کو فہم دے اور رُشد عطا کرے اور یا انسان خود جلدی نہ کرے اور صبر اور دعا سے کام لے تا کہ وقت پر حقیقت کھل جاوے کہ خد اکی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے کیونکہ جھوٹے مذہب کے ساتھ اس کی نصرت اور تائید کبھی شامل نہیں ہوسکتی۔ اگر جھوٹے مذہب کی بھی وہی خاطر خدا تعالیٰ کو ہو جو کہ سچے مذہب کی ہوتی ہے تو پھر سچ اور جھوٹ کا امتیاز کرنا محال ہو جائے گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے جیسا کہ قرآن شریف میں درج ہے یہ جواب دیا کہ
اعملو اعلی مکا نتکم انی عامل (الانعام : ۱۳۶)
کہ اگر تم لوگوں پر میرا سچا ہوان مشتبہ ہے تو تم بھی اپنی اپنی جگہ عمل کرو۔ میں بھی کرتا ہوں انجام پر دیکھ لینا کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے جو امر خدا کی طرف سے ہوگا وہ بہر حال غالب ہو کر رہے گا۔
واﷲ غالب علی امرہ (یوسف :۲۲)
ان مختلف الہامات کے فیصلہ کے لیے بھی دراصل یہی معیار ہے کیونکہ ایک طرف تو اہل اسلام الہام کے مدعی ہیں دوسری طرف سکھ وغیرہ بھی۔ پس اگر یہ سب الہامات خد اکی طرف سے سمجھے جائیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا بھی بہت سے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ سب ایک ہی کا کلام ہے تو آپس میں ایک دوسرے کی ضد کیوں ہیں کہ وہی خدا ایک کو کہتا ہے کہ فلاں شخص سچا ہے اور دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹا ہے۔ پس اس میں فیصلہ کی جو آسان ترین راہ یہ وہ یہ ہے کہ ایک قول ہوتا ہے اور ایک فعل۔ اگر قول میں اختلاف ہے تو اب فعل کی انتظار چاہیے ۔ قول پر اگر فیصلہ کامدار رکھا جاوے تو اس کی نظیر دوسری تگہ نکل آتی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ تم کذاب ہو۔ لیکن فعل کو کہاں چھپائیں گے۔اس کی مثال تو ایک سورج کی ہے جس کی رؤیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔