بعض ایسے لوگ جن تک حضور ؑ کی بعثت اور دعاوی کی مفصل کیفیت نہیں پہنچی؛ تاہم وہ حسن ظن رکھتے ہیں اور بسبب دور ہین کے یقینی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اُن کے ذکر پر آپ نے فرمایا کہ :
نیک لوگوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کو کامل علم نہیں ہے۔ اور علم اصل میں اسی کو کہتے ہیں جبکہ انسان کو واقفیت رؤیت کے قائمقام ہو۔
الہامات کے ذکر پر فرمایا کہ :
قضأ و قدر کے اسرار چونکہ عمیق در عمیق ہوتے ہیں، اس لیے بعض وقت الہامات اور رؤیا کی تفہیم میں انسان کو غلطی لگ جاتی ہے۔
مذکورہ بالا تقریر فرماکر حضرت اقدس تشریف لے گئے مگر پھر بہت جلد تشریف لائے اور فرمایا کہ :
عصر کا وقت ہو گیا ہے۔ اذان دی جائے۔
خاں صاحب شادی خاں اذان دینے گئے اور حضورؑ نے مجلس فرمائی۔
سچے الہام کی علامات
چونکہ اس وقت اہل اسلام میں سے بھی بعض مخالف اور منکر حضرت مسیح موعود الہام کے مدعی ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کو حضرت مرزا صاحب کے کاذب اور دجال ہوین کے بارے میں خد اتعالیٰ سے وحی ہوتی ہے اور ادھر بعض مذاہب غیراز اسلام میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہ اپنے مذہب کی تصدیق کے بذریعہ الہام مدعی ہیں اس لیے ایسے دعاوی کے جواب میں حضورؑ نے ایک لطیف تقریر فرمائی جو کہ بہت ہی غور اور توجہ کے قابل ہے۔
ہر ایک شخص اپنی حالت کے لحاظ سے معذور ہوتا ہے اس لیے ان میں فیصلہ کا ایک موٹا طریق ہے جسے ہم پیش کرتے ہیں۔اس وقت مختلف اقوام جن کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے الہام کے مدعی ہیں دس سال کا عرصہ گذرا کہ ایک دفعہ امرتسر سے ایک سکھ کا خط ئیا کہ مذہب سکھ کے سچا ہوین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے۔ اور ایسے ہی ایک اہگریز نے الہ آباد سے لکھا کہ مجھے عیسویت کے سچا ہونے کی نسبت الاہم کے ذریعہ سے اطلاع دی گئی ہے۔اور ایک مولوی عبد اﷲ صاحب غزنوی جن کو میں نیک جانتا ہوں ان کی اولاد امرتسر میں ہے۔ اُن کو بھی دعویٰ الہام کا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے