سے ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہ نہ چاہتا تو یہ لوگ کیا کرتے، مگر جن لوگوں کے ذریعہ اور ہاتھوں سے اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوئیوہ بھی قابل شکر کے ہیں۔ جہانتک میرا خیال بلکہ یقین ہے وہ یہ ہے کہ ابھی تک ان لوگوں میں تعصب نہیں ہے اور آئندہ کا حال خد اکو معلوم ہے اوراسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں کو خدمت دین ہی مطلوب ہے اور ان کی غرض خد اکو راضی کرنا ہے تو چھپ کر بیٹھ رہنے سے کای فائدہ؟ ان کو چاہیے کہ خدمت دین کا ایک پہلو ہاتھ میں لیں۔گورنمنٹ کی طرف سے کسی قسم کی سختی ہرگز نہیں ہے۔ہاں جو لوگ مفسد ہوتے ہٰن وہ ضرور خود ہی گرفت کے قابل ہوتے ہیں۔گورنمنٹ کا اس مین کای قصور؟ اب تو عیسویت کا یہ حال ہے کہ اس پر خود بخود موت آ رہی ہے۔خود اُن کے بڑے بڑے عالم اور فاضل تثلیث کے پکے دشمن ہو گئے ہیں او ر نئی تعلیم نے اُن کے دلوں میں یہ بات کوٹ کر بھردی ہے کہ بناوٹی خد ااب کام نہیں آسکتا۔ پادریوں کی یہ حالت ہے کہ صرف ٹکڑے کی خاطر کام کر رہے ہیں۔ ایک دن تنخواہ کو دیر ہو جاوے تو کام چھور دیتے ہٰں اور خود عیسائی مذہب کے رد میں کتابیں لکھتے ہیں۔ اس زمانہ کا جہاد اب یہ زمانہ کسرِ صلیب کا ہے۔ تقریر کے مقابلہ پر تلوار سے کام لینا بالکل نادانی ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح ۔اور جن آلات سے کفأر تم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہی طریقوں اور آلات سے تم ان لوگن کا مقابلہ کرو۔اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے اسلام پر تلوار سے نہیں ہیں بلکہ قلم سے ہیں۔ لہذا ضرور ہے کہ اُن کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گ تو یہ اعتدا ہوگا جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان اﷲ لا یحب المعتدین (البقرۃ : ۱۹۱) پھر اگر عیسائیوں کو قتل بھی کر دیا جاوے تو اس سے وہ وساوس ہرگز دور نہ ہوں گے جو کہ دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ وہ اور پختہ ہو جاویں گے اور لوگ کہیں گے کہ واقع میں اہل اسلام کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی دلیل کوئی نہیں ہے لیکن اگر شیریں کلامی اور نرمی سے ان کے وساوس کو دور کیا جاوے تو امید ہے کہ وہ سمجھ جاویں گے اور ہم نے دیکھ اہے کہ بعض عیسائی لوگ جو یہاں آتے ہیں ان کو جب نرمی سے سمجھایا جاتا ہے تو اکثر سمجھ جاتے ہٰں اور تبدیلِ مذہب کر لیتے ہیں (جیسے کہ ماسٹر عبد الحق صاحب نو مسلم) پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ جہانتک ہو سکے کمر بستہ ہو کر دین کی خدمت میں مصروف ہوں کیونکہ یہ وقت اسی کام کے لیے ہے اگر اب کوئی نہیں کرتا تو اور کب کرے گا؟