اقارب میں سے ایک صاحب مولوی احمد سعید صاحب انصاری سہارنپوری برادرزادہ و شاگرد خلیفہ محی السنۃ وقامع البدعۃ حافظ حدیث جناب مولانا شیخ محمد انصاری سہانپوری مولداً مکی مہاجراً مرحوم، احقاقِ حق کے خیال سے تشریف لائے ہوئے تھے۔اس لیے صاحبزادہ صاحب نے حضور اقدس سے ان کی ملاقات کی درخواست کی۔جس پر حضور علیہ السلام اسی وقت تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر مجلس فرمائی۔ بعد استفسار اسم و سکونت و مختلف اذکار کے مسئلہ جہاد کا تذکرہ ہوا۔جس میں ضمناً بعض ان گروہوں کا ذکر بھی آگیا جو کہ ہر ایک کافر کو بذریعہ تلوار قتل کر دینے کو غزا قرار دیتے ہیں اور انگریزوں کے ملکوں میں رہنا بدعت اور کفر خیال کرتے ہیں۔ اس پر حضور ؑ نے فرمایا کہ : اُن کا یہ خیال کہ ہم کفر کے اثر سے بچنے کے لیے الگ رہتے ہیں اور اگر انگریزوں کی رعیت ہو کر رہیں تو آنکھوں سے کفر ارو شرک کے کام دیکھنے پڑیں اور مشرکانہ کلام کان سے سننے پڑیں۔میرے نزدیک درست نہیں ہے کیونکہ اس گورنمنٹ نے مذہب کے بارے میں ہر ایک کو اب تک آزادی دے رکھی ہے اور ہر ایک کو اختیا ر ہے کہ وہ امن اور سلامت روی سے اپین اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔مذہبی تعصب کو گورنمنٹ ہرگز دخل نہیں دیتی۔اس کی بہت سی زندہ نظیریں موجد ہیں۔ایک دفعہ خود عیسائی پادریوں نے ایک جھوٹا مقدمہ خن کا مجھ پر بنایا ۔ایک انگریز اور عیسائی حاکم کے پاس ہی وہ مقدمہ تھا اور اس وقت کا ایک لیفٹیننٹ گورنر بھی ایک پادری مزاج آدمی تھا مگر آخر اس نے فیصلہ میرے حق میں دیا اور بالکل بری کر دیا۔بلکہ یہاں تک کہا کہ میں پادریوں کو خاطر انصاف کو ترک نہیں کر سکتا۔اس کے بعد ابھی ایک مقدمہ ھیصلہ ہوا ہے۔پہلے تو وہ ہندو مجسٹریٹوں کے پاس تھا۔نہیں معلوم کہ انہں نے کس رعب میں آکر بہت ہی واضح اور بین وجوہات کو نظر انداز کر دیا اور مجھ پر جرمانہ کیا۔لیکن آخر جب اس کی اپیل ایک انگریز حاکم کے پاس ہوئی تو اس نے بری کر دیا اور مجسٹریٹ کی کاروائی پر افسوس کیا اور کہا کہ جو مقدمہ اپنے ابتدائی مرحلہ پر خارج ہونے کے قابل تھا اس پر اس قدر وقت ضائع کیا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ابھی تک عدل اور انصاف کا مادہ موجود ہے۔ اگر کسی قسم کا مذہبی تعصب یا بغض ہوتا تو کم از کم میرے ساتھ تو ضرور برتا جاتا۔ تین لاکھ کے قریب جماعت ہے۔پھر افغانستان کے لوگ بھی آ آکر بیعت کرتے رہتے ہیں ارو ایک نیا فرقہ ہونیک ی وجہ سے بھی گورنمنٹ کی نظر اور توجہ اس طرف ہونی چاہیے تھی مگر دیک لو کہ قریب آٹھ کے ہمارے مقدمات ہوئے ہیں جن میں سے سوئے ایک دو کے باقی کل مخالفین کی طرف سے ہم پر تھے مگر سب میں کامیابی ہم کو ہی حاصل ہوئی ہے۔اور انگریزوں نے ہی ہمارے حق میں فیصلے دیئے ہیں؛ اگر چہ ہم ان سب کامیابیوں کو خدا کی طرف