یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پرہیز چاہیے
مباحثات کو بند فرمانا ایک شخص کی درخواستِ مباحثہ پر فرمایا کہ:
حسب اعلامِ الٰہی ہم نے مباحثہ کا دروازہ بند کر دیا ہوا ہے۔لیکن ہاں جس کا جی چاہے ازالۂ شبہات کے لیے ہم سے کلام یا تحریر کر سکتا ہے۔ بحث میں تو فریقین کو ہار جیب کا خیال ہوتا ہے مگر اس مٰں یہ خیال نہیں ہوتا۔ بحث کے بند کرنے سے ہماری یہ غرض نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی اعتراض کرے یا سوال کرے یا اُسے کچھ وساوس ہوں تو اس کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ جواب اور جواب الجواب اور پھر ہارجیت کا جو خیال لوگوں کو ہوتا ہے اس سے وہ احقاقِ حق سے دور جا پڑتے ہیں؛ ورنہ سوالات اور ازالہ وساوس کے لیے دروازہ کھلا ہے جس کا جی چاہے ہم سے پوچھ سکتا ہے۔ ۲؎
۹؍فروری ۱۹۰۵ء
ظہر کے وقت تشریف لا کر طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ:
سردی کی شدت میں یہ کم ہو جایا کرتی تھی مگر اب سردی کی شدت کے ساتھ اس کی بھی شدت ترقی کر رہی ہے؛ حالانکہ ابھی اس کی مزید ترقی کے ایام آنے والے ہیں۔ ۲؎
۱۱؍فروری ۱۹۰۵ء بعد نماز ظہر
انگریزوں کی حکومت میں رہنے کا مسئلہ
ظہر کی نماز ادا فرما کر حضرت اقدس تشریف لے گئے۔ لیکن جناب صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی کے